تنبیہ نمبر 308

 حضرت علی کی تین خصوصیات

سوال
مندرجہ ذیل روایات کی تحقیق مطلوب ہے جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں:
حضرت عبداللہ بن أسعد بن زرارہ انصاری اپنے والد یعنی أسعد بن زرارہ انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو میں ایک ایسے لؤلؤ کے محل پر پہنچا جس میں چمکدار سونے کے فرش بچھے ہوئے تھے، پھر اللہ نے مجھے علی رضی اللہ عنہ کے متعلق تین خصلتوں کی وحی فرمائی (یا حکم فرمایا): یہ کہ علی رسولوں کا سردار ہے، متقین کا امام ہے اور چمکتے ہوئے چہرے والوں کا قائد ہے.
 ١.  قال أبويعلى: وثنا زكريا بن يحیی الكسائي ثنا نصر بن مزاحم عن جعفر بن زياد عن هلال بن مقلاص عن عبدالله بن أسعد بن زرارة الأنصاري عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لما عرج بي إلى السماء انتهي بي إلى قصر من لؤلؤ فيه فرائش من ذهب يتلألأ فأوحى إلي (أو فأمر بي) في علي بثلاث خصال: بأنه سيد المرسلين وإمام المتقين وقائد الغر المحجلين. (اتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة، جلد:7، صفحہ:20)
 ٢.  قال أبويعلى: ثنا زكريا بن يحيى، ثنا نصر بن مزاحم، عن جعفر بن زياد، عن هلال بن مقلاص، عن عبدالله بن أسعد بن زرارة، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لما عرج بي إلى السماء انتهي بي إلى قصر من لؤلؤ، فيه فرائص من ذهب يتلألأ فأوحي إلي أو فأمرني في علي بثلاث خصال: بأنك سيد المرسلين، وإمام المتقين، وقائد الغر المحجلين». (المطالب العالية للحافظ ابن حجر العسقلاني:12/167)
اس میں موجود راوی نصر بن مزاحم رحمه اللہ کو ابن حبان نے ثقات راویوں میں درج کیا ہے۔ (الثقات لابن حبان:9/215)
نصر بن مُزَاحم يروي عَن سُفْيَان الثَّوْريّ روى عَنهُ إِبْرَاهِيم بن يُوسُف الْبَلْخِي وَأهل خُرَاسَان حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ بِسَمَرْقَنْدَ حَدَّثنا إِبْرَاهِيم بن يُوسُف ثَنَا نصر بن مُزَاحم عَن سُفْيَان الثَّوْريّ عَن عَطاء بن السَّائِب عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ليلى…
     کیا یہ روایات درست ہیں؟

الجواب باسمه تعالی

تحریر لکھنے والا یا تو علوم حدیث سے انتہائی ناواقف شخص رہا ہے، یا صاحب تحریر نے کمال خیانت کرتے ہوئے سلسلہ الکذب کو حسن قرار دیا، اگر اتحاف الخیرہ المہرہ اور المطالب العالیہ کی سند کے ابتدائی راویوں کی تحقیق کر لیتے تو شاید نہ یہ تحریر لکھتے، نہ اہل سنت پر الزام لگتا

 ■ روایات کی اسنادی حیثیت:

 ○ ان دونوں اسناد میں پہلا راوی زکریا بن یحیی الکسائی ہے.

 ١. امام نسائی کہتے ہیں کہ یہ متروک الحدیث راوی ہے.

◇ قال النسائي فی الضعفاء والمتروكون: زَكَرِيَّا بن يحيى الْكسَائي: مَتْرُوك الحَدِيث.

 ٢. ابن عدی لکھتے ہیں کہ یحیى بن معین سے پوچھا گیا کہ زکریا کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ تو فرمایا برا آدمی، بری روایات نقل کرتا ہے، یہ شخص اس قابل ہے کہ کنواں کھود کر اس میں پھینکا جائے. (الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدی).

◇ قال عَبداللہ بن أحمد: سألت يَحْيى بْن مَعِين قلت شيخ بالكوفة، يُقَال له: زكريا الكسائي. قال يَحْيى: رجل سوء يحدث بأحاديث سوء.
ثم قال يَحْيَى: يَستأهل إن يُحفر له بئر، فيلقى فيها

 ٣. ابن عدی لکھتے ہیں کہ زکریا اہل بیت کے فضائل اور دیگر صحابہ پر رد میں اکثر من گھڑت روایات نقل کرتا ہے.

وزكريا بْن يَحْيى الكسائي هذا أكثر الأحاديث التي يرويها في فضائل أهل البيت الذي يقع فيه النكرة ومثالب غيرهم من الصحابة التي كلها موضوعات وهذا الذي قال ابْن مَعِين يحدث بأحاديث سوء إنما يرويه في مثالب الصحابة

 ٤. امام ذہبی کہتے ہیں کہ ہلاکت کے درجے کا رافضی تھا.

◇ قال الذهبي: رافضي هالك.

 ٥. لسان المیزان میں اسی روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: اس روایت کے راوی متہم بالکذب ہیں اور غالی قسم کے شیعہ ہیں.

◇ وفي لسان الميزان (ج:4، ص:249) في ترجمة علي بن القاسم الكندي قال ابن عدی في حديث أورده في ترجمة المعلى بن عرفان عن أبي يعلى عن زكريا بن يحيى الكسائي في ذكر علي: رواة هذا الحديث متهمون المعلى وعلي وزكريا كلهم غلاة في التشيع

 ○ دوسرا راوی: نصر بن مزاحم ہے.

قال ابن الجوزي فی الضعفاء والمتروكون: نصر بن مُزَاحم الْمنْقري الْكُوفِي الْعَطَّار.

 ١. أبوخیثمہ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹا تھا

◇ قَالَ أَبُوخثيمَةَ: كَانَ كذابا.

 ٢. یحیى بن معین کہتے ہیں کہ اس کی روایات کسی قابل نہیں.

◇ قَالَ يحيى: لَيْسَ حَدِيثه بِشَيْء.

 ٣. أبوحاتم رازی کہتے ہیں کہ یہ بیکار روایات نقل کرتا ہے.

◇ وَقَالَ أَبُوحَاتِم الرَّازِيّ: واهي الحَدِيث، مَتْرُوك الحَدِيث.

 ٤. ابراہیم بن یعقوب کہتے ہیں کہ یہ حق سے ہٹنے والا تھا، خطیب کہتے ہیں کہ شیعیت میں غلو کرنے کی وجہ سے.

◇ قَالَ إِبْرَاهِيم بن يَعْقُوب الجوزحاني: كَانَ زائغا عَن الْحق. قَالَ أَبُوبكر الْخَطِيب: يُرِيد بذلك غلوة فِي الرَّفْض.

 ابن حجر عسقلانی نے الاصابہ میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس روایت کے اکثر راوی ضعیف اور اس کا متن انتہائی منکر ہے.

¤ معظم الرواة في هذه الأسانيد ضعفاء والمتن منكر جدًا.. والله أعلم‏.‏ (الإصابة في معرفة الصحابة)
 ● اس روایت کی ایک اور سند:

امام طبرانی نے ایک اور سند سے اس روایت کو نقل کیا.

□ أخرجه الطبراني في “المعجم الصغير” (ص:210) عن مجاشع بن عمرو حدثنا عيسى بن سوادة النخعي حدثنا هلال بن أبي حميد الوزان عن عبدالله بن عكيم الجهني مرفوعا.
 ■ اسنادی حیثیت:

اس سند میں  مجاشع بن عمرو  جھوٹا راوی ہے.

 ابن حبان کہتے ہیں کہ یہ روایات گھڑتا تھا.  

◇ كَانَ مِمَّن يضع الحَدِيث على الثِّقَات ويروي الموضوعات عَن أَقوام ثِقَات لَا يحل ذكره فِي الْكتب إِلَّا عَلَى سَبِيل الْقدح فِيهِ وَلَا الرِّوَايَة عَنْهُ إِلَّا عَلَى سَبِيل الِاعْتِبَار للخواص.

 ○ عیسی بن سوادہ النخعی:

 ١. أبوحاتم نے اسکو منکر الحدیث قرار دیا.

◇ قال أبوحاتم: منكر الحديث.

 ٢. ابن معین کہتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے.

◇ وقال ابن مَعِين: كذاب، رأيته.

 ٣. امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ منکر الحدیث ہے.

◇ قال البخاري في الضعفاء الكبير: منكر الحديث.
 ● امام حاکم کی سند:
عمرو بن الحصين العقيلي: ثنا هلال بن أبي حميد عن عبدالله بن أسعد بن زرارة عن أبيه قال: قال رسول الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أوحي إلي في علي ثلاث: أنه سيد المسلمين، وإمام المتقين، وقائد الغر المحجلين
أخرجه ابن عدي في “الكامل” (7/199)، والحاكم (3/137 – 138)، والخطيب (1/192)، لكن وقع فيه: “سيد المرسلين”، وقال الحاكم: صحيح الإسناد.
 ■ اسنادی حیثیت:

امام حاکم نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد حسبِ عادت اس کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے، لیکن امام ذہبی نے اس کو موضوع قرار دیا.

أورده الذهبي بقوله: قلت: أحسبه موضوعاً، وعمرو وشيخه متروكان.
 ○ عمرو بن حصین العقیلی:
قال ابن الجوزي فی الضعفاء والمتروكون: عَمْرو بن الْحصين الْعقيلِيّ الْكلابِي.

 ١. أبوحاتم اور ابوزرعہ کہتے ہیں کہ اس کی روایات بیکار ہیں.

◇ قَالَ أَبُوحَاتِم الرَّازِيّ: ذَاهِب الحَدِيث، لَيْسَ بِشَيْء.
◇ وَقَالَ أَبُوزرْعَة: واهي الحَدِيث.

 ٢. ابن عدی کہتے ہیں کہ یہ متروک الحدیث ہے.

◇ وَقَالَ ابْن عدي: وَهُوَ مَتْرُوك الحَدِيث.
خلاصہ کلام

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل پر صحیح روایات اس قدر موجود ہیں کہ کسی بھی من گھڑت یا انتہائی کمزور روایت کو بنیاد بنا کر ان کی فضیلت کو بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں.
سوال میں مذکور مضمون والی روایت کے تمام اسانید انتہائی کمزور اور ناقابل اعتبار ہیں، لہذا اس کو بیان کرنا اور آپ علیہ السلام کی طرف نسبت کرنا کسی طور بھی درست نہیں

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٣ اكتوبر ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں