تنبیہ نمبر 313

جمعے کے دن عصر کے بعد والا درود

سوال
محترم جناب مفتی عبدالباقی اخونزادہ صاحب!
آپ سے جمعے کے دن عصر کے بعد پڑھے جانے والے درودشریف کے بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ اس کی کوئی سند ثابت نہیں، اور یہ فضیلت ثابت نہیں، لہذا اس کی نسبت آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف نہ کی جائے..
لیکن جامعہ بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کے ویب سائٹ پر اس روایت کو ضعیف قرار دیا گیا ہے، اور رسالہ “بینات” میں اس کے متعلق تفصیلی مضمون موجود ہے، جس میں اس روایت کی سند ذکر کی گئی ہے..
آپ سے اس پر نظر ثانی کی درخواست ہے…
(سائل: محمد عرفان، افریقہ)

الجواب باسمه تعالی

سب سے پہلے اس بات کو سمجھا جائے کہ دعا اور درود کے تمام الفاظ کے پڑھنے کیلئے اسکا مستند ہونا ضروری نہیں، لیکن اگر اس کی نسبت آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف کی جائے، یا اس کی ایسی فضیلت بیان کی جائے جو آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف منسوب ہو تو پھر سند کا ذکر کرنا اور اس سند کا کم از کم ضعیف درجے کا ہونا ضروری ہے، سوال میں مذکور درودشریف کے متعلق ایسا کچھ نہیں.

   بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کا بیان:

جمعہ کے دن درود کے بارے میں بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں، اور جمعہ کے دن عصر کے بعد کا وقت ویسے بھی فضیلت والا ہے، لیکن اس میں خصوصاً مذکورہ الفاظ کا پڑھنا بعض ضعیف روایات سے ثابت ہے، اور فضائلِ اعمال میں ضعیف روایت قابلِ قبول ہے، جبكہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو، لہذا ضعیف روایت نقل کرنے میں حرج نہیں ہے.

   ضعیف کا حکم کس بنیاد پر لگایا ہے؟

دارالافتاء بنوری ٹاؤن نے کسی بھی سند یا وجہ کے بغیر اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ اصل تو یہ ہے کہ سند ذکر کر کے پھر اس پر ضعف یا صحت کا حکم لگایا جاتا، لیکن بغیر سند اور دلیل کے اسکو ضعیف قرار دے کر قابل عمل قرار دینا اصولِ حدیث کے خلاف اور غیرمعتبر ہے.

   ماہنامہ بینات میں چھپنے والے مضمون کا جائزہ:

ماہنامہ بینات میں چھپنے والے مضمون میں اس درودشریف کی جو تحقیق کی گئی ہے وہ اصولِ حدیث کے کئی بنیادی قواعد کے خلاف ہے.

 ١. پہلا نکتہ:  صاحب مضمون لکھتے ہیں۔

لہذا اس تمام بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر یہ روایت موضوع و من گھڑت ہوتی تو علامہ سخاوی جیسے بلند پایہ عالم جنہوں نے معتبر و غیرمعتبر روایات میں فرق اور فتاوی حدیثیہ کے بارے میں دو کتابیں لکھیں: المقاصد الحسنۃ اور الاجوبة المرضية، وہ کس طرح اپنی کتاب میں ایسی حدیث ذکر کرسکتے ہیں جو موضوع ہو اور اسے ذکر کرنا تحقیق کے خلاف ہو، اس قسم کے محقق سے یہ بات بعید ہے۔

 جواب نکتہ:

یعنی اگر کوئی بڑا محدث ہے تو گویا ان کی کتاب میں کسی موضوع روایت کا ہونا ممکن نہیں..

اس اصول کے تحت سنن ابن ماجہ، مستدرک حاکم اور طبرانی میں کسی بھی موضوع روایت کا وجود ہی نہیں، کیونکہ یہ حضرات امام سخاوی سے درجے میں یقینا اوپر ہیں، لیکن محدثین نے ان کتب کی روایات پر حکم بھی لگایا اور استدراک بھی کیا، امام ذہبی نے امام حاکم کی صحیح قرار دینے والی روایات کو موضوع قرار دیا ہے، امام سیوطی نے خود موضوعات پر کتاب لکھی ہے، لیکن ان کی اپنی کتب میں بےشمار موضوع روایات موجود ہیں، لہذا اس کو اصل قرار دینا علومِ حدیث سے لاعلمی کا ثبوت ہے.

 ٢. دوسرا نکتہ:

محقق نے اس روایت کی ایک خود ساختہ سند ذکر کی ہے.

سند کچھ یوں ہے،

ابن بشکوال نقل کرتے ہیں: عن شیخ ابو القاسم عن ابو عبداللہ محمد بن الفرج رحمه اللہ عن :ابو الولیدیوسف بن عبداللہ بن المغیث (۳۳۸ھ -۴۲۹ھ) عن ابو عیسی یحییٰ بن عبداللہ اللیثی رحمه اللہ (المتوفی:۳۶۷ھ) عن ابو مروان عبیداللہ بن یحییٰ لیثی رحمه اللہ (المتوفی:۲۹۸ھ) 

عن راویِ موطا، فقیہ کبیر یحییٰ بن یحییٰ بن کثیر المصمودی الاندلسی القرطبی رحمه اللہ (المتوفی۲۹۸ھ) رحمهم الله تعالٰی اس سے آگے امام مالک رحمہ اللہ سے سند واضح ہے.

  آگے لکھتے ہیں:

خلاصہ بحث یہ ہے کہ ابن بشکوال رحمہ اللہ نے اس درود کو اگرچہ تعلیقاً ذکر کیا ہے، لیکن سند کا سلسلہ جو ذکر کیا گیا اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان تک جو حدیث پہنچتی رہی وہ اسی سلسلے کی مرہونِ منت ہے، جس میں وقت کے بڑے بڑے علماء و محدثین شامل ہیں۔ شیخ ابو القاسم رحمه اللہ کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ بات اور آشکارا ہوجاتی ہے، لہٰذا اس تمام بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر یہ روایت موضوع و من گھڑت ہوتی تو اس قسم کا سلسلہ اس کو کیسے روایت کرتا؟

 جواب نکتہ:

 اس سلسلے نے اس روایت کو نقل کیا ہے اس کی کیا دلیل ہے؟

کسی منقطع روایت کو محض اپنی سوچ سے متصل بنانا یہ کونسا اصول ہے؟ اور کس اصول کے تحت یہ لکھا گیا ہے؟ جبکہ انقطاع بھی صدیوں کا ہے..

حیرت ہوتی ہے کہ بینات والوں نے اس مضمون کو قبول کیسے کیا؟ اور بنوری ٹاؤن نے اس تحقیق کی بنیاد پر اس روایت پر حکم کیسے لگایا؟

 ٣. تیسرا نکتہ:

محقق صاحب لکھتے ہیں کہ اب تک ایسی کتاب یا کسی محدث کی عبارت نظروں سے نہیں گذری جس نے اسے موضوع قرار دیا ہو۔

 جواب نکتہ:

ایسی بھی کوئی کتاب نظر سے نہیں گذری جس نے اس روایت پر صحیح یا ضعیف کا حکم لگایا ہو، تو پھر بات رہ جاتی ہے سند کی، کہ اگر سند ہے تو روایت قابل قبول ہوگی ورنہ نہیں، اس روایت کی کوئی سند موجود نہیں، ورنہ آپ از خود سند بنانے پر مجبور نہ ہوتے، اور جب سند نہیں تو محض کسی کتاب میں موجود ہونا، اس روایت کی صحت کی دلیل نہیں ہوتی.

   جمعے کے دن عصر کے بعد پڑھے جانے والے درودشریف کی تحقیق:

اس متعلق ہماری تحقیق اور رائے شیخ طلحہ منیار صاحب کی تحقیق سے مکمل متفق ہے، لہذا یہاں مختصراً اسی تحقیق کو پیش کیا جاتا ہے.

   جمعے کے دن عصر کے بعد درود شریف پڑھنے کی روایت:

یہ روایت تین سندوں سے منقول ہے:

 ١.  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ.

 ٢.  حضرت انس رضی اللہ عنہ.

 ٣.  حضرت سہل بن عبداللہ کی روایت.

   بنیادی روایت:

آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ درود پڑھنا پل صراط پر نور ہے، جو شخص مجھ پر جمعےکے دن اسّی(٨٠) بار درود پڑھےگا، اس کے اسّی(٨٠) سال کے گناہ معاف ہونگے.

  حدثنا عون بن عمارة قال: حدثنا السكن البُرجُمی، عن الحَجّاج بن سِنان، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة مرفوعا بلفظ: الصلاة عليَّ نور علی الصراط، فمن صلی عليَّ يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له ذنوبُ ثمانين عاما.
 حديث کی تخريج:

ابن شاہین نے (الترغيب فی فضائل الاعمال: 22)میں، ابن شاہین كے طريق سے ابن بشكوال نے (القربة:109)میں، دارقطنی نے اپنی كتاب (الافراد، واطراف الغرائب 5095) میں، اور ديلمی نے (مسندالفردوس:2/408) میں، اور اسی طرح ابوالشيخ اورضياءالدین مقدسی، ان سب نے دارقطنی كے طریق سے بيان كيا ہے۔ (السلسلة الضعيفة:3804)

   دو اضافے:

 اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے، اور اسّی(٨٠) سال کی عبادت کا ثواب، کا اضافہ:

امام سخاوی علیه الرحمة نے (القول البديع، ص:284) میں حضرت ابوہريره كی روايت میں ”قبل أن يقوم من مقامه“ اور ”وكتبت له عبادة ثمانين سنة“ كی زيادتی نقل کی ہے، اس زيادتی كے نقل کرنے میں امام سخاوی منفرد ہیں، اور اس كی نسبت انہوں نے ابن بشكوال كی طرف كی ہے، لیكن یہ زيادتی ”القربۃ“ میں موجود نہیں ہے، تو معلوم نہیں کہ یہ زیادتی ابن بشكوال کی کونسی كتاب میں موجود ہے؟

امام سخاوی ؒ کی عبارت ملاحظہ فرمائیں: وفی لفظٍ عند ابن بشكوال من حديث أبي هريرة أيضا: من صلى صلاة العصر من يوم الجمعة فقال قبل أن يقوم مكانه: اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آله وسلم تسليما، ثمانين مرة، غُفِرت له ذنوب ثمانين عاما، وكتبت له عبادة ثمانين سنة.
   ان روایات کی اسنادی حیثیت:

 ١. حضرت انس کی روایت:

اس میں وہب بن داود بن سلیمان المخرمی ہے، خطیب نے اسے غیرموثوق به كہا ہے۔

١. ابن الجوزی نے (العلل المتناہیة:796) میں فرمایا: یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔

٢. حافظ ذہبی نے (المغنی فی الضعفاء:6904) میں فرمایا: یہ وہب بن داود كی وضع کردہ ہے۔

٣. البانی كہتے ہیں كہ یہ روایت ابن الجوزی نے (الاحادیث الواہیة) میں ذكر كی ہے، میں كہتا ہوں كہ یہ ان كی دوسری كتاب ”الاحادیث الموضوعات“ کے زیادہ مناسب ہے، اس لئے كہ اس حدیث میں علاماتِ وضع ظاہر ہیں۔

 ٢. سہل بن عبداللہ والی روایت:

حضرت سہل بن عبد اللہ کی روایت کو ابن بشكوال نے (القربة الی رب العالمین:111) میں روایت كیا ہے، اور كہا: ہمارے شیخ ابوالقاسم نے ہم سے كہا کہ: سہل بن عبداللہ سے مروی ہے…الخ

 ¤ اس روایت کی کوئی سند نہیں ہے۔

 ٣. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت:

اس حدیث کی سند بہت کمزور ہے کیونکہ اس میں تین رواۃ ضعیف ہیں:

 پہلے راوی: عون بن عمارۃ

١. ان کے بارے میں ابو زرعہ نے فرمایا: منکر الحدیث.

٢. أبوحاتم نے کہا: میں نے ان کا زمانہ پایا، البتہ میں ان کے بارے میں سکوت اختیار کرتا ہوں، اور وہ منکر الحدیث بھی تھے اور ضعیف بھی تھے۔

٣. امام أبوداود نے فرمایا: ضعیف. (تہذیب التہذیب:8/173)

٤. ابن طاہر مقدسی نے کہا: وہ کثیر الغلط لوگوں میں سے ہیں، لہذا ان کی بات سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ (معرفة التذکرۃ: 1078)

 دوسرے راوی: حجاج بن سنان

امام ازدی نےان کو متروک الروایۃ بتایا ہے۔ (لسان المیزان:2/563)

 تیسرے راوی: علی بن زید بن جدعان

١. امام ابوزرعہ نے کہا: وہ ثقہ نہیں ہیں، خطا کرتے ہیں اور وہم کے شکار ہوتے ہیں.

٢. امام احمد نے کہا: معتبر نہیں ہیں.

٣. ابوحاتم نے کہا: لا یحتج به.

٤. دارقطنی نے کہا: میرے نزدیک وہ ضعیف ہی رہے، اور شعبہ نے ان پر اختلاط کا الزام لگایا ہے. (المغنی للذهبی:2/447)

   شیخ طلحہ منیار صاحب کی تحقیق کا خلاصہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کی سند انتہائی کمزور ہے، جو قابل استدلال نہیں، اور حدیثِ انس اس كے لئے شاہد نہیں بن سكتی اس لئے كہ وہ موضوع ہے۔ اور نہ ہی روایتِ سہل بن عبداللہ كيونكہ اس كی كوئی معتمد سند نہیں ہے۔

   ماہنامہ بینات کے مضمون پر شیخ کا تبصرہ:

تنبیہ: مجھے كراچی سے نكلنے والے رسالہ (بینات، شمارہ رجب۱۴۳۷ھ) میں اس حدیث كی تخریج كے متعلق ايک مقالہ ملا، جس میں كاتبِ مقالہ نے  اپنی طرف سے سہل بن عبداللہ كی روایت كی مخترع سند بیان كی ہے، جو توجہ كے قابل نہیں ہے، اور یہ علومِ اسناد كے باب میں واضح جہالت ہے، اہل رسالہ كو چاہیئے تھا كہ وہ ایسے ضعیف اور غیرمستند مقالہ کے شائع كرنے میں احتیاط برتتے.

خلاصہ کلام

جمعے کے دن درودشریف پڑھنے کے فضائل صحیح روایات سے ثابت ہیں، اسی طرح جمعے کی عصر کے وقت کوئی بھی عبادت کرنا، نیز کسی قید یا کسی مخصوص فضیلت کے بیان کئے بغیر کسی بھی دوردشریف کا پڑھنا درست بھی ہے اور اس کی ترغیب بھی دی جا سکتی ہے، البتہ مخصوص تعداد اور قیود کے ساتھ کسی درودشریف کو پڑھنا اور اسکے وہ فضائل بیان کرنا درست نہیں جو کسی بھی صحیح یا ضعیف سند سے ثابت نہ ہوں، لہذا اس کی نسبت آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف کرنا درست نہیں.

    《واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
١٧ جنورى ٢٠٢١ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں