تنبیہ نمبر 317

اہل قافلہ مدہوش ہوگئے

سوال
ثاقب رضا مصطفائی صاحب کے ایک بیان میں ایک واقعہ سنا ہے، آپ سے اس کی تحقیق مطلوب ہے…
واقعہ درج ذیل ہے:
ایک دن حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآله واصحابہ وسلم سیر کرتے کرتے مدینہ منورہ سے باہر کسی چراگاہ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قافلے نے پڑاؤ کیا ہوا تھا، اس جگہ قافلے والوں کے سرخ رنگ کے کچھ اونٹ چر رہے تھے، ان اونٹوں میں سے ایک اونٹ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآله واصحابہ وسلم کو پسند آگیا، اس اونٹ کے نصیب کہ وہ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو پسند آگیا، حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے قافلے والوں سے پوچھا کہ یہ اونٹ بیچتے ہو؟ قافلے والوں نے پتہ نہیں اونٹ بیچنا تھا یا نہیں، مگر حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پوچھنے پر قافلے والوں نے کہا: جی بیچنا ہے، پوچھا گیا کتنےکا بیچنا ہے؟ کہا گیا: اتنے کا بیچنا ہے، سودا طے ہونے لگا، حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے میں اس اونٹ کو خریدتا ہوں، اونٹ کی قیمت تو طے ہو چکی ہے، بات یہ ہے کہ میں گھر سے اونٹ خریدنے کی نیت سے تو نکلا نہیں تھا، یہ تو سیر کے لئے چلتے چلتے یہاں آ پہنچا اور مجھے اونٹ پسند آگیا، قیمت تو ساتھ لے کر نکلا نہیں، اس لئے ابھی اونٹ کی قیمت ادا کرنے کے لئے میرے پاس تو کچھ نہیں ہے، ہاں میں واپس جا کر اس اونٹ کی قیمت آپ کو بھیج دیتا ہوں، قافلے والوں نے کہا: ہمیں منظور ہے، قافلے والے کافی دیر حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو دیکھتے رہے، حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے اونٹ پکڑا اور واپس مدینہ منورہ کی طرف چل دیئے، قافلے والے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے چلنے کی رفتار کے حسن میں کھو گئے، جب حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نظروں سے اوجھل ہو گئے تو قافلے والے اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہو گئے، تھوڑی دیر بعد جب وہ سکتے کی حالت سے باہر آئے تو ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: یار یہ جو شخص ہم سے اونٹ لے کر چلا گیا کوئی جانتا ہے یہ کون تھا؟ کسی نے اس شخص کا پتہ بھی پوچھا تھا کہاں سے آیا اور وہ کہاں گیا؟ وہاں پر موجود افراد نے کہا: نہیں، ہم میں سے کوئی نہیں جانتا وہ شخص کون تھا، کہاں سے آیا اور اونٹ لے کر کہاں گیا ہے، اونٹ کا مالک بولا: یار یہ تو عجیب کہانی ہے، ایک شخص نے یہاں اونٹ کو پسند کیا، اس کی قیمت طے کی اور یہ بتا کر کہ میں اس کی قیمت واپس جا کر بھیج دیتا ہوں اونٹ لے کر چلا گیا، ہم میں سے کسی کو اپنا پتہ بھی نہیں بتایا نہ اپنی کوئی چیز ہمارے پاس گروی رکھی نہ ہی یہاں کسی کو اپنا ضامن رکھ کر گیا ہے، جب یہ باتیں ہو رہی تھیں تو قافلے والوں میں سے ایک شخص بولا: یار وہ شخص جب بول رہا تھا تو اس کے منہ سے نور جھڑکتا تھا، میں تو اس کے چہرے کی طرف ہی دیکھتا رہ گیا، پھر دوسرا شخص بھی بول اٹھا: ہاں یار جب وہ شخص مسکرا کر بات کر رہا تھا میں تو اس کے مسکرانے کے انداز میں ہی کھو کر رہ گیا، ایک اور شخص نے کہا: یار میں تو اس شخص کی زلفوں کے پیچ و خم میں ہی کھو گیا، ایک کہنے لگا کہ میں تو اس شخص کی آنکھوں میں ہی ڈوب کر رہ گیا..                      
اونٹ کے مالک نے کہا: اب جو بھی ہوا سو ہوا، وہ شخص ہم سب کو اپنے حسن کا جادو دکھا کر ہمارا قیمتی اونٹ ہتھیا کر چلا گیا، اب وہ واپس نہیں آئےگا، جب اس شخص کی زبان سے یہ لفظ نکلا کہ وہ ہم سے ہمارا قیمتی اونٹ ہتھیا کر چلا گیا، تو اب تک خاموش بیٹھی قافلے کے سردار کی بیوی نے اپنے خیمے کا پردہ سرکایا اور اس (جملے کو کہنے والے) شخص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: سنو اگر وہ شخص تمہیں تمہارے قیمتی اونٹ کی قیمت دینے نہ آیا تو میں اس کی ضامن ہوں، میں تمہیں اس اونٹ کی قیمت ادا کروں گی، اونٹ کا مالک بولا: اچھا تو آپ اس شخص کو جانتی ہیں؟ وہ عورت بولی: والله جانتی تو میں بھی اس شخص کو نہیں ہوں، پھر قافلے سے کوئی بولا: آپ جانتی نہیں تو اس کی ضمانت کیسے دے رہی ہیں؟ اس عورت نے کہا: جب آپ سب لوگ اس شخص سے اونٹ کا سودا طے کر رہے تھے تو اپنے خیمے کی اوڑھ سے میں نے اس شخص کا چہرہ دیکھا تھا بس میں نے اس کی ضمانت اسی لئے دی ہے کہ جس کا چہرہ اتنا سوہنا ہو وہ جھوٹا ہو ہی نہیں سکتا، اس بات کو ابھی تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ ایک شخص قافلے والوں کے پاس آیا اور ان کو مخاطب کرتے ہوئے بولا: یہ لو کھجوریں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ کھجوریں آپ قافلے والوں کی ضیافت کے لئے بھیجی ہیں، ان کجھوروں سے اپنے اونٹ کی قیمت پوری کر لو، قافلے والوں نے کھجوریں نظرانہ لے کر آنے والے شخص کی بات سن کر کہا: ہم اونٹ کی قیمت کیا لیں گے، ہم تو خود اس کی اداؤں کے سامنے بک گئے ہیں.
قافلے والوں نے کجھوریں لانے والے شخص سے پوچھا: ہمیں یہ بتاؤ کہ وہ حسیں حسن والا سوہنا شخص رہتا کہاں ہے؟ اس شخص نے کہا: وہ جو سامنے نخلستان نظر آرہا ہے وہ جو کھجوروں کے جھنڈ دکھائی دے رہے ہیں وہی ڈیرہ ہے اس مدینے والے مدنی ماہی کا، اس کے بعد وہ پورا کا پورا قافلہ مدینہ منورہ میں حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآله واصحابہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآله واصحابہ وسلم کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر اسلام قبول کر لیا.
 کیا یہ پورا واقعہ درست ہے؟

الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور واقعہ اسی سیاق وسباق سے باوجود تلاش بسیار کے کسی بھی کتاب میں کسی بھی صحیح یا ضعیف سند سے نہ مل سکا، حتی کہ من گھڑت روایات پر لکھی گئی کتب میں بھی اس واقعہ کا اسی طرح کوئی ثبوت نہیں، لہذا اس واقعے کو بیان کرنا اور آپ علیہ السلام کی طرف اسکو منسوب کرنا درست نہیں،

 درست واقعہ اور اس کی سند

صحابی رسول کہتے ہیں کہ ہم ربذہ سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے، اور مدینہ منورہ کے قریب پڑاؤ ڈالا، ہمارے ساتھ ایک خاتون بھی تھی، جو کھجاوے میں تھی،

ایک شخص ہمارے پاس آیا، اور ہمیں سلام کیا اور ہم نے ان کو سلام کا جواب دیا، ہمارے پاس ایک اونٹ بھی تھا، اس شخص نے کہا کہ کیا تم لوگ اس اونٹ کو بیچنا چاہتے ہو، ہم نے کہا کہ بلکل بیچنا چاہتے ہیں، انہوں نے پوچھا کہ کتنے کا بیچے گے، تو ہم نے عرض کیا کہ اتنے صاع کھجور کے بدلے بیچے گے، تو انہوں نے کہا کہ اونٹ ہمارا ہوا، اور پھر اونٹ لے کر چل دیئے، اور مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے، ان کے جانے کے بعد ہم نے آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنا شروع کیا ، کہ جس شخص کو تم جانتے نہیں اس کو اونٹ دے دیا، تو ہمارے قافلے میں موجود خاتون نے کہا کہ ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو، میں نے اس شخص کا چہرہ ایسا دیکھا ہے جو تمھیں دھوکہ نہیں دے گا، جب رات ہوئی تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا، میں رسول اللہ کا بھیجا ہوا ہوں، اور یہ کھجوریں ہیں، اس کو تول لو، اور کھالو، اگلے دن ہم مدینہ منورہ داخل ہوئے تو ہم نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو منبر پر دیکھا لوگوں سے خطاب کررہے تھے

 رأيْتُ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ مرتينِ مرةً بسوقِ ذي المجازِ 
 فلمَّا ظهرَ الإسلامُ قدمَ المدينةَ أقبلْنا منَ الربذةِ حتى نزلْنا قريبًا منَ المدينةِ ومعنا ظَعينةٌ لنا فأتانا رجلٌ فسلَّم عليْنا فردَدْنا عليْهِ السلامَ ومعنا جملٌ لنا فقال أتبيعونَ الجملَ فقلْنا نعم قال بِكَم قلنا بكذا وكذا صاعًا من تمرٍ قال قد أخذْتُهُ ثم أخذ برأسِ الجملِ حتى دخلَ المدينةَ فتَلاومْنا وقلْنا أعطيْتُم جَملَكم رجلًا لا تعرفونَهُ فقالَتِ الظعينةُ لا تَلاوَموا فلقد رأيْتُ وجهًا ما كان ليخفِرَكم ما رأيْتُ وجهًا أشبَهَ بالقمرِ ليلةَ البدرِ من وجهِهِ فلمَّا كان العشيُّ أتانا رجلٌ فقال السلامُ عليكم إنِّي رسولُ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ إليكم وإنَّهُ يأمرُكم أن تأكُلوا حتى تَشبعوا وتَكتالوا حتى تَستَوْفوا ففعَلْنا فلمَّا كان منَ الغدِ دخلْنا المدينةَ فإذا رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ قائمٌ على المنبرِ يَخطبُ الناسَ
الراوي : طارق بن عبدالله المحاربي | المحدث : ابن حزم | المصدر : المحلى
الصفحة أو الرقم: 9/112 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
 طارق بن عبدالله المحاربي | المحدث : شعيب الأرناؤوط | المصدر : تخريج سنن الدارقطني
الصفحة أو الرقم: 2976 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
خلاصہ کلام

فقط اس قدر مختصر واقعہ ثابت ہے لیکن اس کو الف لیلہ کی کہانی بناکر منبر پر بیان کرنا بلکل درست نہیں،

 دراصل ہمارے ہاں مشہور خطیب حضرات (بلا استثناء مسلک) اپنے جوشِ خطابت میں کچھ بھی بیان کردیتے ہیں، اور دیدہ دلیری سے اس کو آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں، جبکہ دین کی اصل خدمت آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی روایات سے جھوٹ کو باہر نکالنا ہے، نہ کہ جھوٹی روایات کوفروغ دینا.

الله رب العزت ہم سب کو صحیح سمجھ نصیب فرمائے…(آمین)

    《واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٦ فرورى ٢٠٢١ کراچی

تنبیہ نمبر 317” ایک تبصرہ

  1. السلام علیکم
    تنبیہ نمبر: 317 پر نظر ثانی کی ضرورت ھے۔ نفس واقعہ بسند صحیح متعدد کتب میں مذکور ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں