تنبیہ نمبر 323

دفاعِ شیخین کریمین کا صلہ

سوال
مولانا اعظم طارق صاحب کے صاحب زادے معاویہ اعظم نے ایک بیان میں یہ حدیث بیان کی ہے، آپ سے اسکی تحقیق مطلوب ہے…
دربارِ نبوی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ موجود تھے، حضور علیہ السلام نے حضرت ابوبکر سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ اے ابوبکر! تیرے بعد ایک ایسا زمانہ آئےگا کہ تیری عزت پر حملے کئے جائیں گے اور اس وقت کچھ لوگ ایسے ہونگے جو تیری عزت کا دفاع کر رہے ہونگے، بتائیں کہ ان لوگوں کو آپ کیا دیں گے جو آپ کو دیکھے بغیر آپ کی عزت کا دفاع کر رہے ہونگے؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنی ذندگی کی نیکیوں کا چوتھا حصہ ان کو دے دوں گا… یہی گفتگو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی فرمائی، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی یہی عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنی ذندگی کی نیکیوں کا چوتھا حصہ ان کو دے دوں گا، اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور آکر عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی گفتگو اللہ پاک نے سن لی ہے اور اللہ پاک نے حکم فرمایا کہ اس گفتگو کو لکھ لیا جائے، چنانچہ اس گفتگو کو لکھ لیا گیا، اس گفتگو کو لکھوا کر اللہ رب العزت نے اپنے خزانوں میں جمع فرمالیا…
کل قیامت کے دن اس تحریر کو نکالا جائےگا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا جائےگا کہ  شیخین کریمین  کی عزت کا دفاع کرنے والی مبارک اور مقدس ہستیوں کو شیخین کریمین کی نیکیوں کا چوتھا حصہ دے دیا جائےگا… (بحوالہ انوار الصدیق)
       کیا یہ روایت درست ہے؟

الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور واقعہ مولانا جلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ نے اپنی  کتاب ’’مثنوی مولوی معنوی‘‘ میں نقل کی ہے. (اس حکایت کا عربی ترجمہ ہمارے علم کے مطابق کیا گیا ہے، قواعد العشق الاربعون کے نام سے)

  في أحد الأيام كان موسى يسير في الجبال وحيدًا عندما رأى من بعيد راعيًا، كان جاثيًا على ركبتيه، ويداه ممدودتان نحو السماء يصلي، فغمرت موسى السعادة، لكنه عندما اقترب دهش وهو يسمع الراعي يصلي: يا إلهي الحبيب! إني أحبك أكثر مما تعرف، سأفعل أي شيء من أجلك، فقط قل لي: ماذا تريد؟ حتى لو طلبت مني أن أذبح لأجلك خروفًا سمينًا في قطيعي، فلن أتردد في ذلك، أشويه وأضع دهن إليته في الرز ليصبح طعمه لذيذًا، ثم سأغسل قدميك، وأنظف أذنيك، وأفليك من القمل، هذا هو مقدار محبتي لك، صاح موسى: توقف أيها الرجل الجاهل، ماذا تظن نفسك فاعلًا؟ هل تظن أن الله يأكل الرز؟ هل تظن أن له قدمين تغسلهما؟ هذه ليست صلاة، هذا كفر محض، اعتذر الراعي ووعد أن يصلي كما الأتقياء، فعلمه موسى الصلاة، ومضى راضيًا عن نفسه كل الرضا، وفي تلك الليلة سمع موسى صوتًا، كان صوت الله: ماذا فعلت يا موسى؟ لقد أنبت الراعي المسكين، ولم تدرك معزتي له، لعله لم يكن يصلي بالطريقة الصحيحة، لكنه مخلص في قوله، إن قلبه صافٍ، ونيته طيبة، إنني راض عنه، قد تكون كلماته لأذنيك بمثابة كفر، لكنها كانت بالنسبة لي كفرًا حلوًا، فهم موسى خطأه، وفي الصباح الباكر عاد للجبال ليجد الراعي يصلي، لكن بالطريقة التي علمه إياها موسى، ولكي يؤدي الصلاة بالشكل الصحيح كان يتلعثم مفتقدًا للعاطفة، والحماسة كما كان يفعل سابقًا، ربت موسى على ظهره: يا صديقي! لقد أخطأت، أرجو أن تغفر لي، أرجو أن تصلي كما كنت تصلي من قبل، فقد كانت صلاتك نفيسة، وثمينة عند الله.
اس واقعے کی اسنادی حیثیت:

یہ واقعہ باوجود تلاش بسیار کے کسی بھی مستند کتاب میں نہیں مل سکا، بلکہ اس کی عربی عبارت كا بھی رومی صاحب کی فارسی کتاب سے عربی میں ترجمہ کیا گیا ہے.

خلاصہ کلام

عمدہ التحقیق نامی کتاب کا سرسری مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کتاب میں بہت ساری غیر مستند روایات بغیر سند کے نقل کی گئی ہیں، لہذا اس کتاب یا اس کے ترجمے میں سے کسی روایت کو نقل کرنا اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف اسکو منسوب کرنا درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢٨ فرورى ٢٠٢١ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں