تنبیہ نمبر 331

تنبیہ نمبر 331 پر ضمیمہ

سوالات کا ایک سلسلہ ہوتا ہے، جس کو ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے، اور وقتا فوقتاً اس پر کام ہوتا ہے، لیکن جب کوئی سوال بہت زیادہ آنے لگے تو اس کو مقدم کیا جاتا ہے،

ہیجڑے جنات کی اولاد کے عنوان سے سوال مختلف جگھوں سے ہونے لگا ، تو ایک سرسری سی تحقیق کے جس قدر تحقیق کی ضرورت محسوس کی گئی اس کا جواب لکھا گیا، لیکن مفتی عبداللہ اسلم صاحب اور مولانا فیاض صاحب کی طرف سے بات سامنے آئی کہ شائد تحقیق اس قدر واضح نہیں کہ جس سے روایت کے حکم کا پتہ چلے، تو دوبارہ تحقیق کرکے اس مضمون کو پیش کیا جارہا ہے۔

اضافہ شدہ 

ہیجڑے، جنات کی نسل

سوال
مندرجہ ذیل روایت کی تحقیق مطلوب ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر آدمی اپنی بیوی سے حالتِ حیض میں صحبت کرتا ہے تو شیطان اس کی بیوی سے جماع کرنے میں اس سے سبقت کر جاتا ہے. بیوی حاملہ ہوتی ہے اور ہیجڑا بچہ پیدا کرتی ہے، سب ہیجڑے جنات کی اولاد ہیں… اس کو ابن جریر نے روایت کیا ہے…
        کیا یہ روایت درست ہے؟

الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور روایت ابن جریر کی تفسیر اور حکیم ترمذی کے حوالے سے مختلف مقامات پر منقول دیکھی ہے، لیکن باوجود تلاش کے ان کتابوں میں براہ راست نہ مل سکی، البتہ تفسیر روح البیان (جلد: 3 صفحہ: 890) پر یہ روایت موجود ہے.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جب اس کا سبب معلوم کیا گیا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حالتِ حیض میں بیوی سے دور رہنے کا حکم دیا ہے کہ یہ حالت گندی اور بری ہے، پس جب انسان اس حالت میں بھی جماع کرتا ہے تو شیطان اس سے آگے بڑھ جاتا ہے، اور پھر جو بچہ ہوتا ہے وہ مخنث (ہیجڑا) پیدا ہوتا ہے، اور یہ جنات کی اولاد ہوتی ہے.

  عن ابن عباس ان الرجل اذا اتى زوجته وهي حائض يسبقه الجن إليها فحملت منه ويولد لها مخنث والمخنثون. قال تعالى: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ} (سورة البقرة:222)

 اسی روایت کو امام طرطوسی نے بھی اپنی سند سے نقل کیا ہے.

  الباب الرابع والثلاثون في أن المخنثين أولاد الجن:
قال الطرطوسي في كتاب تحريم الفواحش: باب من أي شيء يكون المخنث.
  حدثنا أحمد بن محمد حدثنا أحمد بن محمد القاضي حدثنا ابن أخي ابن وهب حدثني عمي عن يحيى عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال: المخنثون أولاد الجن، قيل لابن عباس: كيف ذلك؟ قال: ان الله عزوجل ورسوله صلى الله عليه وسلم نهيا أن يأتي الرجل امرأته وهي حائض، فإذا أتاها سبقه إليها الشيطان فحملت فجاءت بالمخنث.

 یہی روایت کامل لابن عدی میں بھی منقول ہے.

اس روایت کو ابن عدی نے کامل میں یحیی بن ایوب عن عبیداللہ بن زحر کی سند سے نقل کیا ہے.

  حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الفرج الغافقي، حَدَّثَنا أَحْمَدُ بْنُ عَبد الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنا عَمِّي، حَدَّثني يَحْيى بْن أيوب، عنِ ابْن جُرَيج، عَن عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: الْمُخنِثُونَ أَوْلادُ الْجِنِّ، قِيلَ لابْنِ عَبَّاسٍ: يَا أَبَا الْفَضْلِ! كَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَهَى الله وَرَسُولُهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَإِذَا أَتَاهَا سَبَقَهُ الشَّيْطَانُ إليها فحملت منه فاتت بالمخنث.
ابن عدي في الكامل (6/295) وعنه الذهبي في ميزان الاعتدال (4/363) 
   اس روایت کی اسنادی حیثیت:

اس روایت کی سند میں یحيی بن ایوب پر بعض محدثین کا کلام ہے.

   ١. یحیی بن ایوب:

 ١. امام احمد فرماتے ہیں کہ ان کا حافظہ اچھا نہیں تھا.

  قَالَ أَحْمَدُ بنُ حَنْبَلٍ: هُوَ دُوْنَ حَيْوَةَ وَسَعِيْدِ بنِ أَبِي أَيُّوْبَ، هُوَ سَيِّئُ الحِفْظِ.

 ٢. ابن معین ان کو ثقہ قرار دیتے ہیں.

 وَرَوَى: إِسْحَاقُ الكَوْسَجُ، عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ: ثِقَةٌ.
  وَقَالَ مَرَّةً: صَالِحٌ.

 ٣. ابو حاتم کہتے ہیں کہ یہ سچے ہیں، لیکن ان کی روایات کو بطورِ دلیل بیان نہیں کیا جاسکتا.

  وَقَالَ أَبُوحَاتِمٍ: هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بنِ أَبِي المَوَالِ، وَمَحَلُّهُ الصِّدْقُ، وَلاَ يُحْتَجُّ بِهِ.

 ٤. امام نسائی کہتے ہیں: لا باس به، اور ایک جگہ فرمایا کہ یہ مضبوط راوی نہیں.

  وَقَالَ النَّسَائِيُّ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ.
  وَقَالَ مَرَّةً: لَيْسَ بِالقَوِيِّ.

 ٥. امام ذہبی کہتے ہیں کہ ان کی روایات میں کچھ منکر اور غریب روایات ہیں، البتہ یہ حسن الحدیث ہیں.

  قُلْتُ: لَهُ غَرَائِبُ وَمَنَاكِيْرُ يَتَجَنَّبُهَا أَرْبَابُ الصِّحَاحِ، وَيُنَقُّوْنَ حَدِيْثَهُ، وَهُوَ حَسَنُ الحَدِيْثِ.

 ٦. امام بخاری نے ان سے استشہادًا روایت نقل کی ہے، جبکہ امام مسلم نے روایت لی ہے.

  أَبُو عبدالله يحيى بن أَيُّوب الْمصْرِيّ، للْبُخَارِيّ فِي الاستشهاد وَلمُسلم فِي الرِّوَايَة.
    ٢. عبيد الله بن زحر الضمرِي الإفْرِيقِي الْكِنَانِي:

اس راوی کے متعلق محدثین کے اقوال:

 ١. انہوں نے علی بن یزید سے باطل روایات نقل کیں.

  يروي عَن عَليّ بن يزِيد نُسْخَة بَاطِلَة.

 ٢. امام احمد نے ان کو ضعیف قرار دیا.

  ضعفه الامام أَحْمد.

 ٣. ابن المدینی کہتے ہیں کہ یہ منکر الحدیث ہیں.

  وَقَالَ ابْن الْمَدِينِيّ: مُنكر الحَدِيث.

 ٤. یحیی بن معین کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں.

  وَقَالَ يحيى: لَيْسَ بِشَيْء، كل حَدِيثه عِنْدِي ضَعِيف.

 ٥. ابن حبان کہتے ہیں کہ یہ من گھڑت روایات نقل کرتا تھا.

  وَقَالَ ابْن حبَان: يروي الموضوعات عَن الْأَثْبَات. 

 عبیداللہ بن زحر کی روایات کا عموماً کوئی متابع نہیں ہوتا، اور عبیداللہ سے اکثر روایات نقل کرنے والا یحیی بن ایوب ہے.

  ولعبيد الله بن زحر غير ما ذكرت من الحديث ويقع في أحاديثه ما لا يتابع عليه وأروي الناس عنه يَحْيى بن أيوب من رواية بن أبي مريم عنه.

چونکہ اس روایت کی ایک سند میں یحیی بن ایوب عبیداللہ بن زحر سے نقل کررہا ہے، لہذا اس سند کو ناقابل بیان قرار دیا جاتا ہے، البتہ طرطوسی کی سند میں یحيی بن ایوب کی دوسری سند ہے، لہذا اس پر بھی بعض نے عجیب مضمون ہونے کی وجہ سے منکر کا حکم لگایا ہے.

ہماری رائے میں بھی یہ روایت منکر ہے، اس کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔

   جنات کا انسان کی اولاد میں شریک ہونا:

شیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ انسان کے ہر عمل میں شریک ہوجائے، اسی طرح اولاد میں بھی شریک ہوتا ہے.

 ١.  روایت میں ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ اے عائشہ! تم نے کسی مُغَرَّب کو دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مُغَرَّب کون ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ لوگ جن میں جنات انسان کے ساتھ شریک ہوئے ہوں. (مُغَرَّب سے مراد مُخَنَّث لئے جا سکتے ہیں)

  أخرجه أبوداود في “سننه” (5107) من طريق عبدالملك بن عبدالعزيز بن جريج، عن أبيه عن أم حميد عن عائشة رضي الله عنها قالت: قَالَ لِى رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: هَلْ رُئِىَ (أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا) فِيكُمُ الْمُغَرِّبُونَ؟ قُلْتُ: وَمَا الْمُغَرِّبُونَ؟ قَالَ: الَّذِينَ يَشْتَرِكُ فِيهِمُ الْجِنُّ.
والحديث ضعيف.

 ٢.  امام قرطبی نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی مرد ملاپ کے وقت بسم اللہ نہ پڑھے تو جن اس کے عضو سے لپٹ کر اس کے ساتھ شریک ہوجاتا ہے.

  أخرج القرطبي في تفسيره عن مجاهد قال: إذا جامع الرجل ولم يُسَمّ انطوى الجانّ على إحْلِيله فجامع معه.
خلاصہ کلام

جنات اور شیاطین کا انسان کے ہر عمل میں شرکت کرنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے، البتہ مخنث (ہیجڑے) شیاطین یا جنات کی اولاد ہیں، یہ بات سند کے لحاظ سے مضبوط نہیں، لہذا اس کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے.

البتہ مسلمان کو اپنی ہر گھڑی اور ہر لمحہ شیطانی اثرات سے محفوظ کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢٧ مئی ٢٠٢١ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں