تنبیہ نمبر118

تراویح کی ہر شب کی فضیلت

سوال: ایک بیان سنا جس میں تراویح کی ہر رات کی الگ فضیلت کا ذکر ہے…کیا ایسی کوئی روایت ثابت ہے؟
الجواب باسمه تعالی

سوال میں جس روایت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ روایت “درة الناصحین” نامی کتاب  (جس کے مصنف عثمان بن حسن بن احمد الخوبوی ہیں)  میں بغیر سند کے مذکور ہے اور اس روایت پر وضع کے آثار بلکل واضح ہیں.

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام سے رمضان میں تراویح کی فضیلت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

عن علي بن ابي طالب رضي الله تعالى عنه أنه قال: سئل النبي عليه الصلاة والسلام عن فضائل التراويح فى شهر رمضان فقال:

١.   پہلی رات کی تراویح سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور بندہ نومولود بچے کی طرح گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے.

يخرج المؤمن من ذنبه فى اول ليلة كيوم ولدته أمه.

٢.  دوسری رات میں اس کی اور اس کے والدین کی مغفرت کردی جاتی ہے.

وفى الليلة الثانية يغفر له وللأبويه ان كانا مؤمنين.

٣.  تیسری رات کو ایک فرشتہ عرش کے نیچے سے اعلان کرتا ہے کہ اے بندے! پھر سے عمل کر، اللہ تعالی نے گذشتہ سارے گناہ معاف فرمادیئے.

وفى الليلة الثالثة ينادى ملك من تحت العرش: استأنف العمل؛ غفر الله ماتقدم من ذنبك.

٤.  چوتھی رات کو چاروں کتابوں کے پڑھنے کا اجر دیا جاتا ہے.

وفى الليلة الرابعة له من الاجر مثل قراءة التوراة والانجيل والزبور والفرقان.

٥.  پانچویں رات کو مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کے بقدر اجر دیا جاتا ہے.

وفى الليلة الخامسة أعطاه الله تعالى مثل من صلى في المسجد الحرام ومسجد المدينة والمسجد الاقصى.

٦.  چھٹی رات کو بیت المعمور کے طواف کا اجر دیا جاتا ہے اور اس کیلئے ہر لکڑ اور پتھر استغفار کرتے ہیں.

وفى الليلة السادسة اعطاه الله تعالى ثواب من طاف بالبيت المعمور ويستغفر له كل حجر ومدر.

٧.  ساتویں رات کو حضرت موسی علیہ السلام کی نصرت کے بقدر اجر دیا جاتا ہے.

وفى الليلة السابعة فكأنما أدرك موسى عليه السلام ونصره على فرعون وهامان.

٨.  آٹھویں رات کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بقدر اجر دیا جاتا ہے.

وفى الليلة الثامنة أعطاه الله تعالى ما أعطى ابراهيم عليه السلام.

٩.  نویں رات کو گویا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بقدر ثواب حاصل کیا.

وفى الليلة التاسعة فكأنما عبد الله تعالى عبادة النبى عليه الصلاة والسلام.

١٠.  دسویں رات کو اللہ تعالی اس کے لئے دنیا اور آخرت کی خیروں کا فیصلہ فرماتے ہیں.

وفى الليلة العاشرة يرزقة الله تعالى خير الدنيا والآخرة.

١١.  گیارھویں رات کو اس کے نامہ اعمال سے گناہ ختم کردیئے جاتے ہیں اور وہ دنیا سے نومولود بچے کی طرح صاف ستھرا اٹھایا جائےگا.

وفى الليلة الحادية عشر يخرج من الدنيا كيوم ولد من بطن أمه.

١٢.  بارھویں رات کا اجر ایسا ہوگا کہ جسکی وجہ سے قیامت کے دن اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکےگا.

وفى الليلة الثانية عشر جاء يوم القيامة ووجهه كالقمر ليلةالبدر.

١٣.  تیرھویں رات کا اتنا اجر ہوگا کہ قیامت کے دن ہر تکلیف سے محفوظ ہوگا.

وفى الليلة الثالثة عشر جاء يوم القيامة آمنا من كل سوء.

١٤.  چودھویں رات کو فرشتے گواہی دینے آیئنگے کہ بندے نے تراویح پڑھ لی لہذا قیامت کے دن اس کا حساب نہ ہوگا.

وفى الليلة الرابعة عشر جاءت الملائكة يشهدون له أنه قد صلى التراويح فلا يحاسبه الله يوم القيامة.

١٥.  پندرھویں شب کو عرش اور کرسی کے اٹھانے والے فرشتوں سمیت تمام فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے ہیں.

وفى الليلة الخامسة عشر تصلى عليه الملائكة وحملة العرش والكرسى.

١٦.  سولہویں رات کو اس کو جنت کا پروانہ اور جہنم سے آزادی دی جاتی ہے.

وفى الليلة السادسة عشر كتب الله له براءة النجاة من النار وبراءة الدخول فى الجنة.

١٧.  سترھویں رات کو تمام انبیائےکرام کے بقدر اجر دیا جاتا ہے.

وفى الليلة السابعة عشر يعطى مثل ثواب الأنبياء.

١٨.  اٹھارویں شب کو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ اے بندے! اللہ تعالی تجھ سے اور تیرے والدین سے راضی ہوگئے.

وفى الليلة الثامنة عشر نادى الملك: ياعبدالله! أن رضى اللہ عنك وعن والديك.

١٩.  انیسویں شب کو جنت الفردوس میں اس کے درجات بلند کردیئے جاتے ہیں.

وفى الليلة التاسعة عشر يرفع الله درجاته فى الفردوس.

٢٠.  بیسویں شب کو اس کو شہداء اور صالحین کا اجر دیا جاتا ہے.

وفى الليلة العشرين يعطى ثواب الشهداء والصالحين.

٢١.  اکیسویں شب کو اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں نور کا گھر تعمیر فرماتے ہیں.

وفى الليلة الحادية والعشرين بنى الله له بيتا فى الجنة من النور.

٢٢.  بائیسویں شب کو اس کو قیامت کے دن ہر غم اور فکر سے آزادی کا پروانہ مل جاتا ہے.

وفى الليلة الثانية والعشرين جاء يوم القيامة آمنا من كل غم وهم.

٢٣.  تیئیسویں شب کو اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں ایک شہر آباد کرتے ہیں.

وفى الليلة الثالثة والعشرين بنى الله له مدينة فى الجنة.

٢٤.  چوبیسویں شب کو اس کو چوبیس مقبول دعائیں دی جاتی ہیں.

وفى الليلة الرابعة والعشرين كان له اربعة وعشرون دعوة مستجابة.

٢٥.  پچیسویں شب کو اس سے عذاب قبر ہٹا دیا جاتا ہے.

وفى الليلة الخامسة والعشرين يرفع الله تعالى عنه عذاب القبر.

٢٦.  چھبیسویں شب کو اس کیلئے چالیس سال کا اجر بڑھایا جاتا ہے.

وفى الليلة السادسة والعشرين يرفع الله له ثوابه أربعين عاما.

٢٧.  ستائیسویں شب کو پل صراط پر سے بجلی کی چمک کی طرح گذرنے کا انعام دیا جاتا ہے.

وفى الليلة السابعة والعشرين جاز يوم القيامة على الصراط كالبرق الخاطف.

٢٨.  آٹھائیسیویں شب کو اللہ تعالی جنت میں اس کے ایک ہزار درجے بلند فرماتے ہیں.

وفى الليلة الثامنة والعشرين يرفع الله له ألف درجة فى الجنة.

٢٩.  انتیسویں شب کو اللہ تعالی اس کو ایک ہزار مقبول حجوں کا اجر عطا فرماتے ہیں.

وفى الليلة التاسعة والعشرين اعطاه الله ثواب الف حجة مقبولة.

٣٠.  تیسویں شب کو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اے میرے بندے! جنت کے میوے کھا اور سلسبیل کے پانی میں غسل کر اور کوثر کا پانی پی، میں تیرا رب ہوں اور تو میرا بندہ ہے.

وفى الليلة الثلاثين يقول الله: ياعبدى! كل من ثمار الجنة واغتسل من مياه السلسبيل واشرب من الكوثر، أنا ربك وأنت عبدى”.
اس روایت کی اسنادی حیثیت:

جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ روایت کسی بھی مستند یا ضعیف سند سے کہیں بھی منقول نہیں، البتہ ایک کتاب درة الناصحین میں بغیر سند نقل کی گئی ہے اور احادیث سے تھوڑی سی مطابقت رکھنے والا شخص بھی اس کے من گھڑت اور درست نہ ہونے کو سمجھ سکتا ہے کہ یہ روایت بہت سی صحیح اور موضوع روایات کو جوڑ کر بنائی گئی ہے اور ایسی روایت کو ملفق (مرکب) کہتے ہیں.

روایات کی تحقیق کرنے والے ایک ادارے سے جب اس روایت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث کے الفاظ نہیں بلکہ موضوع اور من گھڑت ہیں اور یہ روایت ملفق ہے.

١. هذا الحديث آثار الوضع ظاهرة واضحة لكل إنسان سوفضیلتاء كان عاميا أو طالب علم.
٢. هذا الحفضیلتديث ملفق من عدة أحاديث.
خلاصہ کلام

سوال میں جس روایت کے بارے میں پوچھا گیا ہے اس روایت کا کسی بھی صحیح، مستند یا ضعیف روایات سے ثبوت نہیں اور جہاں پر بھی منقول ہے بغیر سند ہی مذکور ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے،  لہذا اس کو بیان کرنا یا آپ علیہ السلام کی طرف اسکی نسبت کرنا درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
١٠ رمضان المبارك ١٤٣٩
٢٦ مئی ٢٠١٨

اپنا تبصرہ بھیجیں