تنبیہ نمبر15

دیہاتی کے سوالات

سوال: ایک روایت بہت مشہور ہے جس میں ایک دیہاتی کے سوالات اور آپ علیہ السلام کے جوابات کا تذکرہ ہے، اس روایت میں دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کو مجتمع کیا گیا ہے؟ اس روایت کی صحت کے بارے میں آپ کی تحقیق مطلوب ہے.
الجواب باسمه تعالی

سب سے پہلے اس روایت کے الفاظ کو نقل کیا جاتا ہے.

روایت کا متن:

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنه فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ یارسول اللہ! میں آپ سے ایسی بات پوچھنا چاہتا ہوں جو مجھے دنیا اور آخرت میں مستغنی بنادے. حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہو پوچھو.

دیہاتی اور آپ علیہ السلام کے درمیان مکالمہ:

١.  دیہاتی: میں سب سے زیادہ علم والا بننا چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: تقوی اختیار کرو، عالم بن جاؤگے.

٢.  دیہاتی: سب سے زیادہ امیر/غنی بننا چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: قناعت اختیار کرو، امیر ہوجاؤگے.

٣.  دیہاتی: سب سے زیادہ عادل بننا چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: جسے اپنے لئے اچھا سمجھتے ہو وہی دوسروں کیلئے پسند کرو.

٤.  دیہاتی: اچھا آدمی بننا چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: لوگوں کو نفع پہنچاؤ، اچھے آدمی بن جاؤگے.

٥.  دیہاتی: اللہ کے دربار میں خاص خصوصیت کا درجہ چاہتا ہوں.

آپ علیہ السلام: اللہ کا ذکر کثرت سے کرو.

٦.  دیہاتی: احسان کرنے والا بننا چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: اللہ کی ایسی بندگی کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو یا جیسے وہ تمہیں دیکھ رہا ہے.

٧.  دیہاتی: اللہ کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: فرائض کا اہتمام کرو.

٨.  دیہاتی: قیامت کے روز گناہوں سے پاک ہوکر اللہ تعالی سے ملنا چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: جنابت کے بعد فورا غسل کیا کرو.

٩. دیہاتی: قیامت کے دن نور میں اٹھنا چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: ظلم کرنا چھوڑ دو.

١٠.  دیہاتی: یہ چاہتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ تعالی مجھ پر رحم کرے.

  آپ علیہ السلام: اللہ کے بندوں پر رحم کرو.

١١.  دیہاتی: گناہوں میں کمی چاہتا ہوں.

  آپ علیہ السلام: کثرت سے استغفار کیا کرو.

١٢.  دیہاتی: سب سے زیادہ عزت والا بننا چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کردو.

١٣.  دیہاتی: سب سے زیادہ طاقتور بننا چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: اللہ پر توکل کرو.

١٤.  دیہاتی: رزق کی کشادگی چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: ہمیشہ باوضو رہو.

١٥.  دیہاتی: یہ چاہتا ہوں کہ اللہ اور اسکے رسول کا محبوب بن جاؤں.

    آپ علیہ السلام: جو اللہ اور اسکے رسول کا محبوب ہو اسے اپنا محبوب بنالو.

١٦.  دیہاتی: قیامت کے روز اللہ تعالی کے غصے سے بچنا چاہتا ہوں.

 آپ علیہ السلام: لوگوں پر غصہ کرنا چھوڑ دو.

١٧.  دیہاتی: دعاؤں کی قبولیت چاہتا ہوں.

  آپ علیہ السلام: حرام نہ کھاؤ.

١٨.  دیہاتی: یہ چاہتا ہوں کہ قیامت کے روز اللہ تعالی میری پردہ پوشی فرمائیں.

 آپ علیہ السلام: لوگوں کی پردہ پوشی کرو.

١٩.  دیہاتی: کیا چیز گناہوں سے معافی دلائےگی؟

 آپ علیہ السلام: آنسو، عاجزی، بیماری.

٢٠.  دیہاتی: سب سے بڑی اچھائی کیا ہے؟

آپ علیہ السلام: اچھے اخلاق، تواضع اور صبر.

٢١.  دیہاتی: سب سے بڑی برائی کیا ہے؟

 آپ علیہ السلام: بداخلاقی اور بخل.

٢٢.  دیہاتی: اللہ کے غصے کو کیا چیز ٹھنڈا کرتی ہے؟

 آپ علیہ السلام: چپکے چپکے صدقہ اور صلہ رحمی.

٢٣.  دیہاتی: کیا چیز دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کرےگی؟

 آپ علیہ السلام: دنیا کی مصیبتوں پر صبر.

کنزالعمال میں یہ روایت بغیر سند کے منقول ہے.

عن خالد بن الوليد رضي الله عنه قال: جاء أعرابي إلي رسول الله صلي الله عليه وسلم فقال: يارسول الله! جئت أسألك عما يغنيني في الدنيا والآخرة.
فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم: سل عما بدا لك.
فقال: أرید ان أكون أعلم الناس.
فقال صلي الله عليه وسلم: اتق الله تكن أعلم الناس.
فقال: أريد أن أكون أغني الناس.
فقال صلي الله عليه وسلم: كن قانعاً تكن أغني الناس.
قال: أحب أن أكون أعدل الناس.
فقال صلي الله عليه وسلم: أحب للناس ما تحب لنفسك تكن أعدل الناس.
قال: أحب أن اكون خير الناس.
فقال صلي الله عليه وسلم: كن نافعاً للناس تكن خير الناس.
قال: أحب أن أكون أخص الناس إلی الله.
فقال صلي الله عليه وسلم: أكثر من ذكر الله تكن أخص الناس إلی الله.
قال: أحب أن أكون من المحسنين.
فقال صلي الله عليه وسلم: أعبد الله كأنك تراه وإن لم تكن تراه فإنه يراك.
قال: أحب أن أكون من المطيعين.
فقال صلي الله عليه وسلم: أد فرائض الله تكون من المطيعين.
قال: أحب أن ألقي الله نقياً من الذنوب.
فقال صلي الله عليه وسلم: اغتسل من الجنابة متطهراً تلقي الله نقياً من الذنوب.
قال: أحب أن أحشر يوم القيامة في النور.
فقال صلي الله عليه وسلم: لا تظلم أحدا تحشر يوم القيامة في النور.
قال: أحب أن يرحمني ربي يوم القيامة.
فقال صلي الله عليه وسلم: ارحم نفس وارحم عباده يرحمك ربك يوم القيامة.
قال: أحب أن تقل ذنوبي.
>فقال صلي الله عليه وسلم: أكثر من الأستغفار تقل ذنوبك.
مختصرا…
محدثین کا کلام:

یہ روایت بغیر سند کے سیوطی رحمه اللہ کی طرف منسوب ہے کہ میں نے شمس الدین بن القماح کی کتاب میں لکھا ہوا پایا کہ ان سے ابوالعباس المستغفری نے بیان کیا کہ میں طلب علم میں مصر گیا اور میں نے استاد ابوحامد المصری سے یہ روایت چاہی تو انہوں نے مجھے ایک سال تک روزے رکھنے کا حکم دیا، پھر ایک سال کے بعد اپنے مشائخ کی سند سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بیان کی.

ََِيوجد في كتاب “كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال” للمتقي الهندي، (برقم 47/44، ج: 16، ص: 53-54).

ولكنه غير معزو إلى كتاب من كتب السنة وليس له إسناد؛ بل جاء بهذا اللفظ: قال الشيخ جلال الدين السيوطي رحمه الله تعالى: وجدت بخط الشيخ شمس الدين بن القماح في مجموع له عن أبي العباس المستغفري قال: قصدت مصر أريد طلب العلم من الإمام أبي حامد المصري، والتمست منه حديث خالد بن الوليد، فأمرني بصوم سنة، ثم عاودته في ذلك فأخبرني بإسناده عن مشايخه إلى خالد بن الوليد، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم…..الی اخرہ

شیخ ابن باز کا کلام:

یہ روایت بغیر سند کے منقول ہے اور جن لوگوں کی طرف نسبت کی جاتی ہے وہ سب کے سب مجہول راوی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اس روایت کو گھڑنے والے نے بہت سی روایات اور واقعات کو جوڑ کر یہ پورا مضمون بنایا ہے.

جاء رجلٌ إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقال: إني سائِلُك عمَّا یغنینی في الدنيا والآخرةِ، فقال له: سلْ عمَّا بدا لك، قال: يا نبيَّ اللهِ أحبُّ……الخ

– الراوي: خالد بن الوليد.
– المحدث: ابن باز.
– المصدر: مجموع فتاوى ابن باز.
– الصفحة أو الرقم: 26/330.
– خلاصة حكم المحدث: موضوع، ورواته مجاهيل.
وكأن واضعه جمع متنه من الأحاديث الصحيحة ومن بعض كلام أهل العلم، وبعض ألفاظه منكرة لا توافق الأدلة الشرعية.
خلاصہ کلام

یہ روایت ثابت نہیں بلکہ من گھڑت ہے، اس روایت کو بہت ساری روایات کے الفاظ اور اہل علم کے اقوال سے جوڑ کر بنایا گیا ہے،  لہذا حدیث کے طور پر اس کا بیان کرنا یا اسکو شائع کرنا ہرگز درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ


اپنا تبصرہ بھیجیں