تنبیہ نمبر8

حضرت علی اور اونٹنی کا قصہ

سوال: ایک واقعہ کثرت سے سوشل میڈیا پر نشر کیا جارہا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر سے باہر تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سوت دیا کہ اسکو بازار میں فروخت کرکے آٹا لے آئیں کہ گھر میں کئی دنوں سے فاقہ ہے، حضرت علی نے چھ درہم میں وہ فروخت کردیا، اتنے میں ایک سائل نے اللہ کے نام کی صدا لگائی تو حضرت علی نے وہ چھ درہم اس سائل کو دے دیئے اور آپ خالی ہاتھ لوٹنے لگے تو راستے میں ایک دیہاتی ملا جس کے پاس ایک موٹی اونٹنی تھی،  اس اعرابی نے کہا کہ آپ اس اونٹنی کو خریدینگے؟  تو حضرت علی نے قیمت پاس نہ ہونے کا عذر کیا تو اعرابی نے وہ اونٹنی حضرت علی کو ادھار دےدی، تھوڑی دیر بعد ایک اور شخص آیا اور اونٹنی کو ساٹھ درہم نفع پر خرید لیا،  حضرت علی نے پہلے دیہاتی کو اسکے دراہم لوٹائے اور آپ رضی اللہ عنہ کو ساٹھ دراہم کا نفع ہوا،  جب آپ علیہ السلام کو واقعہ سنایا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلا دیہاتی جبریل تھے اور خریدار میکائیل تھے اور آپ نے چھ دراہم اللہ کیلئے خرچ کئے تو اسکا بدلہ اللہ تعالٰی نے دس گنا لوٹا کردیا.
الجواب باسمه تعالی

یہ واقعہ اردو کی مشہور کتابوں میں موجود ہے لیکن اسکا حوالہ حدیث کی کسی بھی مضبوط کتاب میں (چاہے وہ مستند ہو یا ضعیف روایات پر لکھی گئی کتاب ہو) نہیں ملتا.

تلاش بسیار کے بعد اس کا حوالہ اہل سنت میں سے علامہ صفوری کی کتاب “نزهة المجالس” میں بغیر کسی سند کے ملا ہے جو اس واقعہ کے غیرمستند ہونے کی دلیل ہے.

نزهة المجالس میں ہے کہ جبریل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام انسانی صورت میں بیچنے والے اور خریدار کی شکل میں آئے.

اوردها الصفوري على انها حكاية، دون سند ولم يعزها لاحد.
حكاية: خرج علي بن أبي طالب رضي الله عنه يبيع إزار فاطمة رضي الله عنها ليأكلوا من ثمنه فباعه بستة دراهم فرآه سائل فأعطاه إياها، فجاء جبريل في صورة أعرابي ومعه ناقة فقال: يا أباالحسن! اشتر هذه الناقة، فقال: ما معي ثمنها، قال: إلى أجل؛ فاشتراها بمائة، ثم تعرض له ميكائيل في طريقه فقال: أتبيع هذه الناقة؟ قال: نعم؛ ولقد اشتريتها بمائة، قال: ولك الربح ستون، فباعها له فتعرض له جبريل فقال: بعت الناقة؟ قال: نعم، قال: ادفع لي ديني، فدفع له مائة ورجع بستين، فقالت له فاطمة: من أين لك هذا؟ قال: تاجرت مع الله تعالى بستة دراهم فأعطاني ستين، ثم جاء النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بذلك فقال: البائع جبريل، والمشتري ميكائيل، والناقة لفاطمة تركبها يوم القيامة. (نزهة المجالس ومنتخب النفائس: 1/206)

☆  نزهة المجالس ایسی کتاب ہے کہ جس میں ہر طرح کا رطب و یابس جمع کیا گیا ہے،  لہذا جب تک سند کے ساتھ اسکا حوالہ موجود نہ ہو معتبر نہیں.

• شیعوں کی کتابوں میں بھی یہ واقعہ “نزهة المجالس” کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے.

(إحقاق الحق، ج: 6، ص: 107)
(الموسوعة عن فاطمة الزهراء، ج: 17، ص: 299)

حلبی  رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امام سیوطی سے اس واقعے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ جھوٹا واقعہ ہے.

ونقل الحلبي في “السيرة الحلبية” (2/282) أن السيوطي سئل عن هذه القصة فأجاب بأنها من الكذب الموضوع.

علامہ ابن القیم  رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ روافض نے حضرت علی کی شان میں بے شمار روایات بنائی ہیں.

وقال أيضا رحمه الله: وأما ما وضعه الرافضة في فضائل علي فأكثر من أن يعد.

حافظ ابویعلی کہتے ہیں کہ فضائل علی میں من گھڑت روایات کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے.

قال الحافظ أبويعلى الخليلي في كتاب الإرشاد: وضعت الرافضة في فضائل علي رضي الله عنه وأهل البيت نحو ثلاث مئة ألف حديث.
خلاصہ کلام

یہ واقعہ من گھڑت اور غیرمستند ہے، لہذا اس کا بیان کرنا درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

اپنا تبصرہ بھیجیں