تنبیہ نمبر84

استاد کی مار

سوال :مندرجہ ذیل دو روایات کی تحقیق مطلوب ہے:
١ . جسم کے جس حصے پر استاد کی قمچی لگتی ہے اس حصے پر دوزخ کی آگ حرام ہوجاتی ہے.
٢ . حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مرداس سے فرمایا کہ تم بچوں کو تین سے زیادہ نہ مارنا،  اگر تم نے تین سے زیادہ مارا تو اللہ تعالٰی تم سے آخرت میں قصاص لیں گے؟
کیا یہ دونوں روایات درست ہیں؟
الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور دونوں روایات درست نہیں.

١ . پہلی روایت تو باوجود تلاش کے کسی بھی صحیح،  ضعیف یا موضوع روایات کی کتابوں میں نہیں مل سکی.

٢ . دوسری روایت اگرچہ بعض فقہ کی کتابوں میں موجود ہے لیکن اس کی کوئی سند کسی بھی جگہ منقول نہیں،  بلکہ جہاں بھی یہ روایت مذکور ہے  (جس میں تین مرتبہ سے زائد مارنے کو منع کیا گیا ہے)  وہ بغیر سند کے ہی نقل کی گئی ہے.

حديث:
“إياك أن تضرب فوق ثلاثة…” أورده ابن عابدين في رد المحتار (1/235، ط بولاق) نقلا عن أحكام الصغار للإستروشني ولم يعزه إلي أي مصدر حديثي.
اس روایت کے قریب کی روایات:

اس روایت کے قریب کے مضمون کی روایت مرداس المعلم رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ چھنی ہوئی روٹی نہ کھائیں اور کتاب اللہ کے معاملے میں شروط سے اجتناب کریں.

حافظ ابن حجر رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کی کوئی سند مجھے نہ مل سکی.

مرداس المعلم:
ذكره أَبُوزَيْدٍ الدُّوْسي في كتاب “الأسرار” بغير سنَد؛ فقال: مَرَّ النبيُّ صلى الله عليه وآله وسلم بمرْداس المعلم؛ فقال: “إِيَّاك وَالخُبْزَ المَرَقّقَ، والشّرْطَ عَلَى كِتَابِ الله تَعَالَى”.
قال ابن حجر العسقلاني: ولم أقف لهذا الحديث على إسنادٍ إلى الآن.

اس مضمون کی ایک روایت اللآلی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعة میں منقول ہے.

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کا گذر حضرت مرداس  رضی اللہ عنہ پر ہوا تو فرمایا کہ بچوں کو لکڑی سے مارنے سے اجتناب کریں.  (اللآلی المصنوعة،  رقم الحديث:)438

حديث مرفوع:
روى نهشل، عَن الضحاك، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِرْدَاسٍ الْمُعَلِّمِ، فَقَالَ: “إِيَّاكَ وَحَطَبَ الصِّبْيَانِ، وَخُبْزَ الرِّقَاقِ، وَإِيَّاكَ وَالشَّرْطَ عَلَى كتاب اللہ”.
اس روایت کی اسنادی حیثیت:

اس روایت کی سند میں نهشل بن سعید بن وردان القرشي نامی ایک راوی ہے جو کذاب ہے،  لہذا یہ روایت موضوع  ہے.

اس راوی کے بارے میں محدثین کے اقوال:

   قال أَبُوداود الطيالسي وإسحاق بن راهويه: كذاب.
   وقال عباس الدوري، عَنْ يحيى، وأَبُوداود: ليس بشيء.
   وقال أَبُوحاتم: ليس بقوي، متروك الحديث، ضعيف الحديث.
   وقال النسائي: متروك الحديث.
   وقال فِي موضع آخر: ليس بثقة، ولا يكتب حديثه.
(وقال ابن حبان: يروي عَنِ الثقات ما ليس من أحاديثهم، لا يحل كتب حديثه إلا  عَلَى التعجب. (تهذيب الكمال للمزي
حافظ ابن حجر رحمه اللہ نے اس روایت کی سند کا انکار کیا ہے کہ اس کی کوئی سند نہیں.  (الإصابة: 168/9)
قلت: قَالَ الحافظ ابن حجر فِي الإصابة: مرداس المعلم ذكره أَبُوزيد الدبوسي فِي كتاب الأسرار بغير سند، فقال: مر النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمرداس المعلم، فقال: “إياك والخبز المرقق، والشرط عَلَى كتاب الله”. وهذا لَمْ أقف لَهُ عَلَى إسناد إلى الآن.

جوزقانی نے اس روایت کو اپنے موضوعات میں ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ حدیث باطل ہے اور اس کی سند مجہول منکر ہے.

وقد أَخْرَجَهُ الجوزقاني فِي موضوعاته، قَال: أَنْبَأنَا عيسى بْن نهشل الْقُرَشِيّ، عَن الضحاك، عَن ابن عَبَّاس، بِهِ. وقال: هذا حديث باطل، وإسناده مجهول منكر…والله أعلم.
بچوں کو مارنے کے متعلق روایات و اقوال:

بچوں کو نہ مارنے کے متعلق وارد روایات کی سند یا تو ثابت نہیں یا پھر سند کے لحاظ سے وہ اس قابل نہیں کہ وہ دلیل بن سکیں. اسکے برعکس جن روایات میں مارنے کی ترغیب آئی ہے وہ روایات صحیح سند سے وارد بھی ہیں اور سلف صالحین کے اقوال بھی اس کے مطابق ہیں.

١ . ابوداؤد شریف کی روایت:

بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم کرو اور دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر ان کو مارو.

كما روى أبوداود: “مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر”.
٢ . مصنف عبدالرزاق کی روایت:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یتیم کی تربیت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا میں تو اس وقت تک مارتی رہونگی جب تک کہ وہ سمجھدار ہوجائے.

وذكر عبدالرزاق في المصنف أن عائشة سئلت عن أدب اليتيم؟ فقالت: إني لأضرب أحدهم حتى ينبسط.
٣ . امام احمد رحمه اللہ کی روایت:

 – امام احمد رحمه اللہ سے پوچھا گیا کہ بچے کو کس بات پر مارا جاسکتا ہے؟ تو فرمایا کہ ادب پر مارا جاسکتا ہے.

 – اور فرمایا کہ یتیم کو ادب پر مارا جاسکتا ہے.

 – اور فرمایا چھوٹے بچے کو ہلکی مار ماری جاسکتی ہے.

 – اور یہ بھی پوچھا گیا کہ استاد اپنے شاگردوں کو کتنا مار سکتا ہے؟ تو فرمایا کہ غلطی کے بقدر مارا جاسکتا ہے، البتہ کوشش کریں کہ مار سے بچا جائے اور اگر اتنا چھوٹا بچہ ہے جو کہ ناسمجھ ہے تو اسکو نہ مارا جائے.

وسئل الإمام أحمد عما يجوز فيه ضرب الولد؟ قال: يضرب على الأدب.
– وقال أيضاً: اليتيم يؤدب، والصغير يضرب ضرباً خفيفاً.
– وسئل عن ضرب المعلم الصبيان؟ فقال: على قدر ذنوبهم، ويتوقى بجهده الضرب، وإن كان صغيراً لا يعقل فلا يضربه. 

ابن جوزی رحمه اللہ نے فرمایا کہ جب بچے کو تربیت کیلئے مار کی ضرورت ہو تو مارا جائے لیکن ایسی مار جس سے نشان نہ پڑے.

وذكر ابن الجوزي أن الولد إذا احتيج إلى الضرب ضرب ضرباً غير مبرح.
خلاصہ کلام

ان تمام روایات اور اقوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تربیت چاہے والدین کریں یا استاد،  ان کیلئے بچے کو مارنا جائز ضرور ہے لیکن اس مار میں اعتدال ہونا چاہیئے.  لکڑی، چمڑے کے بیلٹ یا  ہنٹر وغیرہ سے اجتناب کیا جائے اور جس قدر ممکن ہو پیار محبت سے سمجھایا جائے،  لیکن اگر اصلاح یا تنبیہ کیلئے مجبورا مارنے کی ضرورت ہو تو اعتدال کا راستہ اختیار کیا جائے.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

١٦ جنوری ٢٠١٨

اپنا تبصرہ بھیجیں