تنبیہ نمبر 309

 سب سے پہلے تلوار نکالنے والا

سوال
مندرجہ ذیل واقعے کی تحقیق مطلوب ہے:
بارہ سال کا ایک بچہ ہاتھ میں تلوار پکڑے تیز تیز قدموں کے ساتھ ایک طرف لپکا جارہا تھا. دھوپ بھی خاصی تیز تھی، بستی میں سناٹا طاری تھا، یوں لگتا تھا جیسے اس بچے کو کسی کی پرواه نہیں۔ لپکتے قدموں کا رخ بستی سے باہر کی طرف تھا، چہرہ غصے سے سرخ تھا، آنکھیں کسی کی تلاش میں دائیں بائیں گھوم رہی ہیں، اچانک ایک چٹان کے پیچھے سے ایک سایہ لپکا، بچے نے تلوار کو مضبوطی سے تھام لیا، آنے والا سامنے آیا تو بچے کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا، ہاتھ میں تلوار اور چہرے پر حیرت اور مسرت کی جھلملاہٹ دیکھ کر آنے والے نے شفقت سے پوچھا: “میرے پیارے بیٹے! ایسے وقت میں تم یہاں کیسے؟” بچے نے جواب دیا: آپ کی تلاش میں.
اس بچے کا نام زبیر رضی اللہ عنہ تھا۔ باپ کا نام عوام اور ماں کا نام صفیہ رضی اللہ عنہا تھا. یہ بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پھوپی زاد بھائی تھا.
قصہ یہ پیش آیا تھا کہ مکہ مکرمہ میں افواہ پھیلی کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ وسلّم کو کفار نے پہاڑوں میں پکڑ لیا ہے. مکہ میں دشمن تو بہت زیادہ تھے، اس لئے ایسا ہو بھی سکتا تھا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جن کی عمر بارہ سال تھی فوراً تلوار اٹھائی اور اکیلے ہی آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، آخر آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم مل گئے۔ پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اس حالت میں دیکھ کر حیرت سے پوچھا: “اگر واقعی مجھے پکڑ لیا گیا ہوتا تو پھر تم کیا کرتے؟” اس بارہ سالہ بچے نے جواب دیا: میں مکّہ میں اتنے قتل کرتا کہ ان کے خون کی ندیاں بہادیتا اور کسی کو زندہ نہ چھوڑتا۔
پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم یہ بات سن کر مسکرا پڑے اور اس جرأت مندانہ انداز پر اپنی چادر مبارک انعام کے طور پر عطا فرمائی۔
اللہ تعالٰی کو یہ ادا پسند آئی، حضرت جبرئیل علیہ السلام آسمان سے نازل ہوئے اور عرض کیا کہ زبیر کو خوشخبری دے دیں کہ اب قیامت تک جتنے لوگ اللہ کے راستے میں تلوار اٹھائیں گے، ان کا ثواب زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی ملےگا.
     کیا یہ پورا واقعہ درست ہے؟
     کیا یہ روایات درست ہیں؟

الجواب باسمه تعالی

سوال میں مذکور واقعے میں بہت زیادہ اضافہ کرکے لکھا گیا ہے، گویا اپنی طرف سے اضافہ کرکے ایک کہانی کے طرز پر ایک روایت کو نقل کیا گیا ہے، جبکہ اصل روایت مختصر ہے، جو کہ مختلف کتب حدیث اور تاریخی کتب میں موجود ہے.

 ● روایت کا اصل متن:

ابتدائے اسلام میں مکہ مکرمہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ مشرکین نے آپ علیہ السلام کو پکڑ لیا ہے، (بعض روایات میں ہے کہ آپ کو قتل کیا ہے) حضرت زبیر ننگی تلوار لے کر گھر سے نکلے، جب آپ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو آپ علیہ السلام نے پوچھا کہ زبیر کیا ہوا؟ عرض کیا کہ آپ کے پکڑے جانے کی خبر سنی، تو آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تم کیا کرتے؟ زبیر نے عرض کہ اہل مکہ سے لڑ پڑتا، اس پر آپ علیہ السلام نے ان کیلئے خیر کی دعا فرمائی.

□ امام طبرانی نے اس روایت کو نقل کیا ہے.

“بَابُ أَوَّلِ مَنْ سَلَّ سَيْفًا فِي سَبِيلِ الله تَعَالَى”
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ سَلَّ سَيْفًا فِي سَبِيلِ الله: الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، كَانَ فِي دَارِهِ بِمَكَّةَ فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَرَادُوا أَنْ يَفْتِكُوا بِرَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّ سَيْفَهُ وَخَرَجَ فِي…..الخ

 ¤ اس سند کو امام ہیثمی نے “رجاله ثقات” فرمایا ہے.

فقد رواه عبدالرزاق والطبراني والزبير بن بكار عن عروة بن الزبير، وقال الهيثمي في سند الطبراني: رجاله ثقات، وذكره غير واحد من أهل العلم منهم ابن عبدالبر وابن كثير وابن الجوزي والذهبي وابن حجر والعيني.

 سعید بن المسیب رحمه الله نے بھی اس مضمون کو نقل کیا ہے.

□ عن سعيد بن المسيب قال: أول من سلّ سيفه في ذات الله الزبير بن العوام، وبينما الزبير بن العوام قائل في شعب المطابخ، إذ سمع نغمة: أن رسول الله ﷺ قُتِل، فخرج من البيت متجرداً السيف صَلْتاً، فلقيه رسول الله ﷺ كَفَّةَ كَفَّةَ، فقال: «ما شأنك يا زبير؟» قال: سمعت أنك قُتِلْت، قال: «فما كنت صانعاً؟» قال: أردت والله أن أستعرض أهل مكة، قال: فدعا له النبي ﷺ بخير. قال سعيد: أرجو أن لا تضيع له عند الله عزوجل دعوة النبي ﷺ.

 ○ سوال میں موجود مضمون میں شامل اضافے:

        ١. پہلا اضافہ:  

آنکھیں کسی کی تلاش میں دائیں بائیں گھوم رہی ہیں، اچانک ایک چٹان کے پیچھے سے ایک سایہ لپکا۔ بچے نے تلوار کو مضبوطی سے تھام لیا۔ آنے والا سامنے آیا تو بچے کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا۔ ہاتھ میں تلوار اور چہرے پر حیرت اور مسرت کی جھلملاہٹ دیکھ کر آنے والے نے شفقت سے پوچھا: “میرے پیارے بیٹے! ایسے وقت میں تم یہاں کیسے؟” بچے نے جواب دیا: آپ کی تلاش میں۔

 ¤ اصل روایت میں ایسی کوئی بات موجود نہیں.

        ٢. دوسرا اضافہ:

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں دیکھ کر حیرت سے پوچھا: “اگر واقعی مجھے پکڑ لیا گیا ہوتا تو پھر تم کیا کرتے؟”

اس بارہ سالہ بچے نے جواب دیا: میں مکّہ میں اتنے قتل کرتا کہ ان کے خون کی ندیاں بہادیتا اور کسی کو زندہ نہ چھوڑتا۔

 ¤ یہ بھی اضافہ کیا گیا ہے اور اس میں مبالغہ ہے.

         ٣. تیسرا اضافہ:

پیارے نبی صلى اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کر مسکرا پڑے اور اس جرأت مندانہ انداز پر اپنی چادر مبارک انعام کے طور پر عطا فرمائی۔

 ¤ ایسا کچھ نہیں ہوا، آپ علیہ السلام نے فقط خیر کی دعا فرمائی.

         ٤. چوتھا اضافہ:

اللہ تعالٰی کو یہ ادا پسند آئی، حضرت جبرئیل علیہ السلام آسمان سے نازل ہوئے اور عرض کیا کہ زبیر کو خوشخبری دے دیں کہ اب قیامت تک جتنے لوگ اللہ کے راستے میں تلوار اٹھائیں گے، ان کا ثواب زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی ملےگا.

 ¤ ایسا کچھ نہیں ہوا، یہ بھی من گھڑت اضافہ ہے.

خلاصہ کلام

حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کے پھوپھی زاد بھائی ہیں، حواری رسول ہیں، آپ علیہ السلام کے ہم زلف ہیں اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں.

اتنے فضائل کے ہوتے ہوئے ایک صحیح روایت میں من گھڑت اضافے کر کے اسلام کے اصل چہرے کو مسخ کرنا دین کی خدمت نہیں بلکہ ایک بڑا جرم ہے، اس طرح کے پوسٹ بنانے اور انکو آگے بڑھانے سے اجتناب لازم ہے

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ
٢٨اكتوبر ٢٠٢٠ کراچی

اپنا تبصرہ بھیجیں