تنبیہ نمبر 82 حصہ دوم

 غار ثور میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیق

▪٢. غار کے منہ پر مکڑی کا جالا اور کبوتر کے انڈے:

اس موضوع پر مختلف کتابوں میں روایات منقول ہیں اور ان روایات پر مختلف محدثین کا مختلف کلام بھی موجود ہے.

●  پہلی روایت:
‏حَدَّثَنَا ‏‏عَبْدُالرَّزَّاقِ‏، ‏حَدَّثَنَا ‏مَعْمَرٌ، ‏قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ‏عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ: ‏أَنَّ ‏مِقْسَمًا ‏مَوْلَى ‏ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏أَخْبَرَهُ عَنِ ‏ابْنِ عَبَّاسٍ ‏‏فِي قَوْلِهِ: {وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ‏…} [الأنفال: ٣٠] ‏قَالَ: تَشَاوَرَتْ ‏‏قُرَيْشٌ ‏‏لَيْلَةً ‏بِمَكَّةَ، ‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا أَصْبَحَ، فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ. يُرِيدُونَ النَّبِيَّ ‏صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ اقْتُلُوهُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ أَخْرِجُوهُ. فَأَطْلَعَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ نَبِيَّهُ ‏صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏عَلَى ذَلِكَ، فَبَاتَ ‏عَلِيٌّ ‏عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ ‏صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَخَرَجَ النَّبِيُّ ‏صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ ‏‏عَلِيًّا، ‏يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ ‏صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَوْا‏ ‏عَلِيًّا،‏ ‏رَدَّ اللهُ مَكْرَهُمْ، فَقَالُوا: أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا؟ قَالَ: لَا أَدْرِي. فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ، خُلِّطَ عَلَيْهِمْ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ، فَمَرُّوا بِالْغَارِ، فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ، فَقَالُوا: لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ، فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ.
– أخرجه عبدالرزاق في “المصنف” (9743) بأطول من هذا، وأحمد (1/348)، والطبري في “جامع البيان” عند تفسير الآية، والطبراني في “الكبير” (12155)، والخطيب في “تاريخ بغداد” (13/191).
●  اس روایت کو نقل کرنے والے محدثین:

غار میں داخل ہونے کے بعد مکڑی کا جالا اور کبوتر کے انڈوں کے متعلق روایت نقل کرنے والوں میں  امام عبدالرزاق، امام احمد بن حنبل، ابن حجر، ابن کثیر، امام سیوطی، طبرانی رحمهم الله  شامل ہیں.

■  اس روایت کی اسنادی حیثیت:

١. اس روایت کو حافظ ابن کثیر، حافظ ابن حجر اور خطیب بغدادی نے حسن قرار دیا ہے.

◇ الحافظ ابن كثير في “البداية والنهاية” (2/239) فقال: وهذا إسناد حسن، وهو من أجود ما روي في قصة نسج العنكبوت على فم الغار، وذلك من حماية الله لرسوله صلى الله عليه وسلم.
◇ وقال الحافظ ابن حجر في “الفتح” (7/278): وَذَكَرَ أَحْمَد مِنْ حَدِيث اِبْن عَبَّاس بِإِسْنَادٍ حَسَن….. وذكر القصة.
◇ حسّن الخطيب البغدادي رحمه الله الحديث، قال في مشكل الآثار: عثمان الجزري يعرف بالمشاهد. قد ذكره أحمد ويحيى وذكرا انه لم يحدث عنه الا معمر وذكره البخاري أيضا في كتابه فلم يذكر فيه الا خيرا.

٢. علامہ هیثمی نے مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کرکے فرمایا کہ اس کی سند میں عثمان بن عمرو الجزری ہے جس کی توثیق ابن حبان کی ہے، البتہ بقیہ تمام راوی ثقہ ہیں.

◇ وقال الهيثمى فى “المجمع” (7/27): ورواه احمد والطبرانى، وفيه عثمان بن عمرو الجزرى، وثقه ابن حبان وضعفه غيره، وبقية رجاله رجال الصحيح.
■  اس روایت کو غیرصحیح قرار دینے والے:

اس روایت پر محدثین کی ایک جماعت نے کلام کیا ہے اور مندرجہ ذیل حضرات نے اس واقعے کو غیرصحیح قرار دیا ہے:

١. أبوعلی الہاشمی.

٢. ابن حجر (ایک قول کے مطابق).

٣. شیخ احمد شاکر.

٤. ناصر الدین البانی.

٥. شیخ عبدالعظيم بدوی.

٦. شعیب ارناؤوط.

٧. شیخ مامون حموش رحمہم اللہ تعالی.

□ هناك طائفة من أهل العلم لم يثبتوا القصة هم:
– الشريف أبوعلي الهاشمي رحمه الله في كتابه الفوائد المنتقاة (108/1).
– والحافظ ابن حجر العسقلاني في قول ثان له، كما في تخريج أحاديث الكشاف.
– والشيخ أحمد شاكر رحمه الله تعالى في تعليقه على مسند الإمام أحمد.
– والإمام محمد ناصر الدين الألباني رحمه الله تعالى في كتابه سلسلة الأحاديث الضعيفة (3/259-264).
– ومحققوا مسند أحمد (5/301-303).
– والشيخ عبدالعظيم بدوي في كتابه إتحاف النبلاء بصحيح سيرة الأنبياء (ص:179).- والشيخ مأمون حموش في كتابه السيرة النبوية على منهج الوحيين (1/359)، وغيرهم

 ان حضرات میں سے البانی، ابن باز اور ابن عثيمين رحمہم اللہ کے علاوہ باقی حضرات نے اس واقعے پر باطل ہونے کا حکم نہیں لگایا اور نہ ہی کسی راوی کو جھوٹا قرار دیا، بلکہ صرف سند کی کمزوری کی طرف اشارہ کیا ہے.

قال أحمد شاكر في تحقيق المسند (3251): في إسناده نظر.
– وقال محققو المسند (3251): إسناده ضعيف.
– قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: إسناده ضعيف.

 اس سند پر ضعف کا حکم لگانے کی وجہ: اس سند میں کچھ راوی ایسے ہیں جن پر کلام کی وجہ سے اس روایت پر بھی کلام کیا گیا ہے، لیکن بعض متقدمین محدثین کی تصحیح اس روایت کو قابل بیان بناتی ہے

 اس روایت کی سند میں سب سے مختلف فیہ راوی عثمان الجزري ہے، اسی طرح اس سند میں عون بن عمرو القاسم، أبومصعب المکی اور بشار بن موسی الخفاف، یہ وہ راوی ہیں جن پر کلام ہے.

 ¤ الحكم على الحديث:
ضعيف ولكن حسنه ابن كثير في البداية والنهاية، وابن حجر في الفتح.
وفي تحسينه نظر، لأن فيه عثمان الجزري وهو ضعيف.
– قال أبوحاتم: لا يحتج به.
– وقال العقيلي: لا يتابع حديثه.
أخرجه أحمد والطبراني وعبدالرزاق في المصنف والطبري.
وحسّنها الحافظ ابن حجر في “الفتح” على أنه قال عن عثمان الجزري: “فيه ضعف”.
◇ وفي “التهذيب” أن أباحاتم قال عنه: يُكتب حديثه ولا يحتج به.
◇ وقال العقيلي: لا يتابع في حديثه.
●  اسباب اضعف:
 ١-  فيها راويان مجهولان: عون بن عمرو القيسي، وأبومصعب المكي. قال فيه الإمام البخاري رحمه الله تعالى: «منكر الحديث، مجهول».
 ٢-  في بعض أسانيدها أيضا رواه ضعفاءهم.
 ♤ بشار بن موسى الخفاف:
.◇ قال فيه الحافظ ابن حجر رحمه الله تعالى في كتابه التقريب برقم (718): ضعیف، كثير الغلط، كثير الحديث.

 ☆ چونکہ اس روایت کو بہت سارے مصنفین نے اپنی کتابوں میں نقل کیا اور ابن کثیر، ابن حجر اور ابن حبان نے اس روایت کے راوی پر باوجود ضعف کے اعتماد کیا ہے، لہذا مکڑی کے جالے اور کبوتر کے انڈے والی روایت کو بلکل باطل قرار دینا درست نہیں ہوگا.

 ♤ عثمان بن عمرو بن ساج الجزري:

 ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ اس کی روایات لکھنے کے قابل تو ہیں لیکن انکو حجت نہیں بنایا جاسکتا.

◇ عثمان بن عمرو بن ساج الجزري: ضعيف لا يحتج به، كما في الجرح والتعديل لابن أبي حاتم.
 ♤ وآخر هو عثمان بن ساج الجزري مجهول.
 ١.  وقال أَبُوحاتم: عُثْمَان والوليد ابنا عَمْرو بْن ساج، يكتب حَدِيثهما، ولا يحتج بِهِ.

  ٢.  ابن حبان نے اس کو ثقہ لکھا ہے.

◇ وذكره ابن حبان فِي كتاب الثقات.

 ٣.  امام نسائی نے اس کی روایت کتاب الصوم میں ذکر کی ہے.

◇ روى له النسائي فِي الصوم.
▪  ٣. فرشتوں کا دونوں حضرات پر پردہ کرنا:

 اس کے متعلق روایت میں ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک آدمی ہماری طرف آرہا ہے یہ ہمیں دیکھ لےگا، تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہرگز نہیں، فرشتوں نے ہمیں اپنے پروں سے چھپایا ہوا ہے.

□ وأما ستر الملائكة للنبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقد ذکرہ الطبراني في “الكبير” (24/106-108) من حديث أسماء بنت أبي بكر، (وهو حديث طويل)، وفيه: فقال أبوبكر لرجل يراه مواجه الغار: يارسول الله! إنه ليرانا، فقال: كلا إن الملائكة تسترنا بأجنحتها…..الخ
■  اس روایت کی اسنادی حیثیت:

اس روایت کی سند میں ایک راوی

 ♤ یعقوب بن حمید بن کاسب المدني  ہے جن کے بارے میں محدثین کے مختلف اقوال ہیں:

وهذا الحديث في سنده يعقوب بن حُمَيْد بن كاسِب المدني، وقد اختلف فيه أهل العلم.
– [انظر: “تهذيب الكمال” للمزي (32/318-323)].

 ١. ابن معین، أبوحاتم، نسائی رحمہم اللہ نے ان کو ضعیف قرار دیا.

◇ فضعفه ابن معين، وأبوحاتم، والنسائي، ووهَّاه أبوزرعة الرازي.

 ٢. ابن عدی کہتے ہیں کہ ان کی روایات نقل کرنے میں حرج نہیں، ان کی روایات بھی زیادہ ہیں اور ان کی غریب احادیث بھی زیادہ ہیں.

◇ وقال ابن عدي: لا بأس به وبرواياته، وهو كثير الحديث، كثير الغرائب.

 ٣. امام ذہبی کہتے ہیں کہ یہ علمائے حدیث میں سے ہیں، البتہ اس کی روایات منکر اور غرائب میں سے ہیں.

◇ وقال الذهبي: كان من علماء الحديث لكنه له مناكير وغرائب.

 ٤. ابن حبان نے ان کی توثیق کی اور ابن حجر کہتے ہیں کہ یہ صدوق راوی ہیں، البتہ ان کو وہم ہوتا رہتا ہے.

◇ ووثقه ابن حبان. وقال عنه الحافظ ابن حجر: صدوق له أوهام.

 ٥. علامہ البانی نے ان کی عام روایات کو حسن قرار دیا، البتہ اس روایت پر خاموشی اختیار کی.

◇ والألباني رحمه الله يحسن حديثه غير أنه توقف في تحسين هذا الحديث.
◇ قال رحمه الله في “السلسلة الضعيفة” (3/263): المتقرر في يعقوب هذا أنه حسن الحديث.
▪  ٤. غار کے منہ پر درخت کا اگنا:

 اسی طرح بعض روایات (جن پر بظاہر کوئی رد نہیں ہوا ان) سے ایک درخت کا غار کے منہ کو چھپانا بھی ثابت ہورہا ہے.

□ وذكر قاسم بن ثابت في الدلائل فيما شرح من الحديث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما دخله وأبوبكر معه أنبت الله على بابه الراءة، قال قاسم: وهي شجرة معروفة فحجبت عن الغار أعين الكفار.
وقال أبوحنيفة الراءة من أغلاث الشجر وتكون مثل قامة الإنسان ولها خيطان وزهر أبيض تحشى به المخاد، فيكون كالريش لخفته ولينه لأنه كالقطن أنشد.
▪  ٥. ایک مشرک کا غار کی طرف منہ کرکے پیشاب کرنا:

 اس کے متعلق جو روایات موجود ہیں ان سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک مشرک غار کی جانب آیا اور اس نے پیشاب کیا تو آپ علیہ السلام نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر یہ آپ کو دیکھ لیتا تو کبھی آپکے سامنے اپنے مقام ستر کو اس طرح نہ کھولتا.

□ أوْرَد الفاكهيُّ ما نصُّه: “لَمْ يَدْخُلِ النَّبيُّ صلَّى الله عليه وسلَّم الغارَ حتى دخلَه أبوبكر رضي الله عنه قبْلَه، فلمَسَه بيده، فقال: إنْ كانت فيه دابَّة تلدغني أحبُّ إليَّ مِن أن تَلْدغَ النبيَّ صلَّى الله عليه وسلَّم فلم يجد شيئًا، فدخَل النبيُّ صلَّى الله عليه وسلَّم فدعَا شجرةً يقال لها: راة، فأقبلَتْ حتى قامَتْ على بابِ الغار، وأقبل رجلٌ منهم رافعًا ثوبه، فقال أبوبَكْرٍ رضي الله عنه لِلنَّبِيِّ صلَّى الله عليه وسلَّم: ما تَراه يَرانا، فقال النبيُّ صلَّى الله عليه وسلَّم: “لَوْ رَآنا ما اسْتَقْبَلَنا بفَرْجِه”. قال الرَّجُلُ: لَيْسَ هاهُنَا، فأنْزَلَ اللهُ عزَّوجلَّ: ﴿إِلاَّ تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ کفروا ثانی اثنین إذ ھما فی الغار إذ یقول لصاحبه لا تحزن إن اللہ معنا…..}
○ ويؤيد هذا ما روته أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنها: أن أبابكر رضي الله عنه رأى رجلا مواجه الغار، فقال يارسول الله! إنه لرائينا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كلا إن الملائكة تستره الآن بأجنحتها»، فلم ينشب أن قعد الرجل يبول مستقبلهما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا أبابكر! لو كان يراك ما فعل هذا»
[رواه أبونعيم في الدلائل، والطبراني في الكبير]، وهو حديث قد يصل درجة الحسن إن شاءالله كما قال الألباني رحمه الله تعالى.
▪  ٦. حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بستر پر لیٹنا:

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہجرت کی رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر لیٹنے کے متعلق روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کی اصل موجود ہے.

•  اس واقعے کو امام احمد، امام حاکم، ابوداؤد طیالسی اور ابوعوانة نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے.

○ ھذہ القصة رواها الإمام أحمد، والحاكم، وقال: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ بِزِيَادَةِ أَلْفَاظ.

 اسی لئے حدیث کی تحقیق کرنے والے ایک قابل اعتماد ادارے سے جب اسکے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا جواب بھی یہی تھا کہ یہ قصہ ثابت ہے.

○ والظاهر أن القصة ثابِتة، والعلماء يتسمّحون في المغازي والسِّيَر. (ملتقی اہل حدیث).
خلاصہ کلام

ان واقعات کے متعلق جتنی روایات ہیں وہ اگرچہ سند کے لحاظ سے کمزور ہیں اور محدثین کے درمیان ان روایات کے صحیح اور ضعيف ہونے کے بارے میں اختلاف بھی ہے، لیکن پھر بھی ان تمام واقعات کو انکے ضعف کے باوجود قابل اعتماد سمجھا جائےگا اور ان کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

دوران سفر….بمقام: بشکیک کرغیزستان

١٢ جنوری ٢٠١٨

اپنا تبصرہ بھیجیں